تہران (12 مئی 2026): ایران نے امریکا پر آبنائے ہرمز کا معاملہ سیاسی بنانے کا الزام لگا دیا ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی اور بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ امریکا سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز پر قرارداد لا کر مسئلے سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔
کاظم غریب آبادی نے ایکس پر ٹوئٹ میں کہا کہ امریکا جنگ کے نتائج کو ایران ہی کے خلاف مقدمے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت بین الاقوامی قانون کا قابل احترام اصول ہے، بین الاقوامی قانون کو سیاسی اور یک طرفہ انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
تلاش آمریکا و برخی همراهان منطقهای آن برای طرح پیشنویسی درباره تنگه هرمز در شورای امنیت، نشاندهنده تلاش جدیدی برای جابهجایی صورتمسئله است: تبدیل پیامدهای یک تجاوز نظامی و محاصره غیرقانونی به پروندهای علیه کشوری که هدف تهدید، فشار و حمله قرار گرفته است.
«آزادی کشتیرانی» یک…— Gharibabadi (@Gharibabadi) May 11, 2026
انھوں نے لکھا ’’بعض ممالک غیر قانونی اقدامات کو عالمی نظام کا نام دے کر پیش کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایران کے دفاعی حق، خطے میں جارحیت، اور دھمکیوں کو نظر انداز کرنے والی قرارداد ناکام ہوگی۔‘‘
معاہدے میں دیر کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان کو چکانی پڑے گی، باقر قالیباف
واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ فریقین مذاکرات سے وابستہ رہیں کیوں کہ مکمل جنگ کی واپسی تباہ کن ہوگی، آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کی صورت حال پہلے ہی ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔
یو این ترجمان نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کی جانب سے ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی تعریف بھی کی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


