The news is by your side.

یمن کے ساحل پر برسوں سے کھڑے خراب بحری جہاز کے لیے 17 ممالک مدد کو آ گئے

یمن کے ساحل پر برسوں سے کھڑے خراب بحری جہاز کے لیے 17 ممالک مدد کو آ گئے، ماحولیاتی بحران سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں سے درکار 75 ملین ڈالر جمع ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن کے ساحل کے قریب بحیرہ احمر میں پھنسے زنگ آلود آئل ٹینکر سے نمٹنے کے لیے مناسب فنڈز مل گئے ہیں، جس سے جلد ہی اس کے گلنے سڑنے کے خطرات سے بچاؤ کا آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔

عرب نیوز کے مطابق یمن کے لیے اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر ڈیوڈ گریلسے نے کہا ہے کہ 17 ممالک نے آپریشن کے پہلے مرحلے کے لیے درکار 75 ملین ڈالر جمع کرنے میں تعاون کیا ہے، جس میں سعودی عرب کے دس ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔

نیدرلینڈز نے 7 ملین ڈالر کا عطیہ دیا، اس بحری جہاز پر ایک اعشاریہ 14 ملین بیرل تیل موجود ہے، جو سات سال سے یمن کے ساحل کے قریب کھڑا ہے، اقوام متحدہ کے مطابق اگر تیل سمندر میں بہہ جاتا ہے تو صفائی کے آپریشن پر 30 ارب ڈالر تک کا خرچہ آ سکتا ہے۔

ڈیوڈ گریلسے کے مطابق اگر اس مسئلے سے درست طور پر نہ نمٹا گیا تو ایک ماحولیاتی بحران آ سکتا ہے، جس سے نہ صرف یمن متاثر ہوگا بلکہ قریبی ممالک بھی لپیٹ میں آئیں گے، جن میں سعودی عرب اور صومالیہ بھی شامل ہیں، جب کہ ماہی گیری اور جہاز رانی میں بھی خلل پڑے گا۔

بچاؤ آپریشن 2 مراحل پر مشتمل ہوگا، پہلے مرحلے میں تیل کو محفوظ طور پر منتقل کیا جائے گا۔ گریسلے کا کہنا تھا کہ امید ہے اگلے ماہ کے آخر تک رقوم ہاتھ میں آ چکی ہوں گی۔

یاد رہے کہ 2015 میں یمن کے مغربی ساحلی شہر الحدیدہ میں صافر نامی آئل ٹینکر کو اس وقت بین الاقوامی میرین انجینیئرز لاوارث چھوڑ کر چلے گئے تھے جب حوثیوں نے وہاں کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں