کراچی : آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں خطرناک اضافہ ہوا، یکم جنوری سے اب تک تین ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، شہر کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں یکم جنوری سے اب تک کتے کے کاٹنے کے تین ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
محکمہ صحت اور بلدیاتی اداروں کی جانب سے بروقت اور مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ حادثات جناح اسپتال ڈاکٹر عرفان احمد نے بتایا کہ جناح اسپتال کراچی میں یکم جنوری سے اب تک کتے کے کاٹنے کے 700 سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جناح اسپتال کے ڈوگ بائٹ یونٹ میں متاثرہ مریضوں کو مفت علاج اور ویکسین کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
سول اسپتال کے حکام نے کہا سول اسپتال کراچی میں بھی یکم جنوری سے اب تک ایک ہزار نئے ڈوگ بائٹ کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جہاں تمام متاثرہ افراد کو مفت طبی سہولیات دی جا رہی ہیں۔
نجی اسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لیاقت نیشنل اسپتال میں یکم جنوری سے اب تک ڈوگ بائٹ کے 20 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں تاہم ابتدائی طبی امداد کے بعد متاثرہ مریضوں کو مزید علاج کے لیے سرکاری اسپتالوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
ترجمان انڈس اسپتال کے مطابق انڈس اسپتال کورنگی میں اب تک سب سے زیادہ، 1300 سے زائد ڈوگ بائٹ کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جہاں متاثرہ مریضوں کو ابتدائی علاج سے لے کر ویکسین کا مکمل کورس مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔
شہریوں نے حکومت اور بلدیاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
انور خان اے آر وائی نیوز کراچی کے لیے صحت، تعلیم اور شہری مسائل پر مبنی خبریں دیتے ہیں


