کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں بدستور جاری -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں بدستور جاری

کراچی: شہرِ قائد میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں رک نہ سکیں، وارداتیں بدستور جاری ہیں، انتظامیہ کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں ڈکیتوں کی وارداتیں رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں، ایک طرف سندھ گورنمنٹ اور دوسری طرف محکمۂ پولیس کی طرف سے بیانات جاری کیے جا رہے ہیں۔

گلشنِ اقبال میں گاڑی میں سوار شہریوں کو ڈکیتوں نے لوٹ لیا، موٹر سائیکل سوار اسٹریٹ کرمنلز نے گاڑی کو روک کر واردات کی اور بہ آسانی نکل گئے۔

اسٹریٹ کرمنلز نے صفورہ گوٹھ میں بھی دیدہ دلیری سے واردات کی، صفورہ گوٹھ شاہراہ پر کھڑے نوجوانوں کو بھی لوٹ لیا گیا، ڈکیٹ موٹر سائیکل پر سوار آئے اور واردات کر کے بھاگ گئے۔

وارداتوں کے دوران ڈکیتوں نے شہریوں کے لیپ ٹاپ اور موبائل فون اور دیگر سامان چھینا، نیو کراچی میں بھی ملزمان دودھ کی دکان میں لوٹ مار کر کے فرار ہوئے۔

خیال رہے کہ پولیس کی سرپرستی میں کراچی کا ایک علاقہ ریڑھی گوٹھ منشیات فروشوں کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں آج اے آر وائی نیوز کی ٹیم نے چھاپہ بھی مارا جس پر وہاں موجود پولیس اہل کار نقاب لگا کر فرار ہو گیا۔


یہ بھی پڑھیں:  اسٹریٹ کرائمز: فیصل واوڈا سندھ حکومت کے مقابل آ گئے، پولیس کی مدد کا اعلان


واضح رہے کہ چار دن قبل میئر کراچی وسیم اختر کی گاڑی بھی چھینی جا چکی ہے جس کا پولیس تاحال پتا نہیں چلا سکی ہے، پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی فیصل واواڈا نے بھی اسٹریٹ کرائمز اور اغوا کی وارداتوں کے سلسلے میں پولیس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلان کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں