کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور پرتشدد واقعات میں اضافہStreet crime
The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور پرتشدد واقعات میں اضافہ

کراچی: شہر قائد میں فائرنگ، اسٹریٹ کرائم اور پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوگیا، جس کے بعد اسٹریٹ کرائم روکنا کراچی پولیس کے لئے ایک چیلنج بن گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے شہری اسٹریٹ کرمنلز کے رحم و کرم پر آگئے، کراچی میں فائرنگ، اسٹریٹ کرائم اور پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا، جرائم پیشہ عناصر گھروں کی دہلیز تک پہنچ کر لوٹ مار کرنے لگے۔

گیارہ ماہ کے دوران ساڑھے تین سو سے زائد افراد موت کے گھاٹ اتاردیے گئے۔

سی پی ایل سی نے رواں سال 21 نومبر تک کی رپورٹ جاری کردی ہے ، رپورٹ کے مطابق گیارہ ماہ میں 27 ہزار 219 شہریوں کو موبائل فون سے محروم کردیا گیا، 23 ہزار 553 شہری اپنی موٹرسائیکلوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

سی پی ایل سی کا رپورٹ میں کہنا ہے کہ 12 سو 94 شہری اپنی قیمتی کاروں سے محروم کردیے گئے، اغواء برائے تاوان کے دس واقعات رپورٹ کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق کراچی کے 58 شہریوں نے بھتہ خوری کی شکایات درج کروائیں، بینک ڈکیتوں نے بھی کراچی 8 بینکوں پر اپنے ہاتھ صاف کیے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں سال قتل اور زخمی ہونے کے زیادہ تر واقعات ڈکیتی مزاحمت پر پیش آئے، جرائم کی 90 فیصد سی سی ٹی وی فوٹیجز پولیس عام شہریوں سے حاصل کرتی ہے۔

ذرائع کے مطابق پولیس اور کے ایم سی کی جانب سے نصب کیمروں کا رزلٹ معیاری نہیں ہوتا۔

دوسری جانب کراچی میں بڑھتےاسٹریٹ کرائم پر وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ کوہدایت دی کہ  شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت میں یقینی بنایاجائے ، شہریوں کونقصان پہنچانےکی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ پولیس جہاں ضرورت ہووہاں رینجرزکی مددلےسکتی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں