The news is by your side.

Advertisement

کراچی: رواں سال 9 ماہ میں ڈکیتیوں کے دوران 32 شہری جاں بحق ہوئے: رپورٹ

کراچی: رواں سال 9 ماہ میں ڈکیتیوں کے دوران 32 شہری جاں بحق ہوئے، دوران مزاحمت 2 سو 84 شہری اسٹریٹ کرمنلز کی گولیوں سے زخمی ہوئے جب کہ 20 سے زاید تاجروں کو بھتے کی پرچیاں موصول ہوئیں۔

تفصیلات کے مطابق اسٹریٹ کرائم کے دوران ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال 9 ماہ میں ڈکیتی کے دوران 32 شہری جاں بحق جب کہ ڈھائی سو سے زاید شہری زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال اسٹریٹ کرائم میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے، اور نو ماہ میں سب سے زیادہ موبائل فون چھینے گئے، جنوری سے اب تک تیس کروڑ کے 36320 موبائل فون چوری ہوئے یا چھینے گئے۔

دوسری طرف مختلف کاروائیوں میں صرف 2500 موبائل فونز برآمد ہوئے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت موبائل چھیننے کی واردتوں میں 30 فی صد اضافہ ہوا۔

ایک ارب روپے سے زاید مالیت کی 21 ہزار موٹر سائیکلیں بھی چوری یا چھینی جا چکی ہی، کار لفٹرز سوا ارب روپے سے زاید مالیت کی 13 ہزار گاڑیاں بھی لے اڑے ہیں۔

ادھر کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے۔

کالی بھیڑیں/جرائم میں اضافے کی وجوہ

موصولہ اطلات کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کی پشست پناہی میں پولیس کی کالی بھیڑیں بھی ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر اے آئی جی غلام نبی میمن نے پولیس میں موجود کرمنلز کے خلاف ڈنڈا اٹھا لیا۔

کراچی پولیس چیف کی جانب سے نشے میں مبتلا افسران اور اہل کاروں کو فائنل وارننگ بھی دی گئی تھی جس کے ختم ہونے میں چند روز باقی ہیں۔

اے آئی جی کراچی نے شہر قائد میں ہونے والی وارداتوں کے پیچھے 2 بڑی وجوہ بتا دیں، اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس چیف نے دعویٰ کیا کہ وارداتوں میں 60 فی صد منشیات کے عادی ملوث ہیں۔

غلام نبی میمن نے دوسری وجہ سے متعلق کہا عدالت میں کیمیکل ایگزامن رپورٹ قابل قبول نہیں ہوتی، ٹیکنیکل وجوہ سے ایگزامن رپورٹس مسترد ہو جاتی ہیں، جس پر ملزم کو پہلی ہی پیشی پر ضمانت مل جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کراچی پولیس گزشتہ دنوں 2 اہم ایونٹس میں مصروف رہی، محرم اور سری لنکا پاکستان میچ میں پولیس کی نفری مصروف رہنے کی وجہ سے نفری کم ہونے سے بھی وارداتیں ہوئیں۔

ادھر آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پولیس کا کردار اچھا ہے، 7 ہزار سے زاید جوان شہید ہوئے، پولیس نے پاک فوج کے بعد سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں