The news is by your side.

Advertisement

اسٹریٹ کرائمز کے جن سے بچنے کے لیے یہ تدابیر اپنائیں

کراچی: شہر قائد کے شہری پہلے ٹارگٹ کلنگ سے پریشان تھے  کیونکہ 20 سے  25 جانیں روزانہ ضائع ہوتی تھیں تاہم رینجرز آپریشن کے بعد یہ صورتحال ختم تو ئی مگر چھینا چھپٹی اور ڈکیتی کی وارداتوں بڑھ گئی جس کے باعث شہریوں کی زندگی ایک بار پھر اجیرن ہوگئی۔

اسٹریٹ کرائمز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی وارداتوں کے بعد شہریوں کے لیے مہنگے موبائل فونز رکھنا جرم ہوگیا اور وہ اس سے محروم ہونے لگے۔ گلی محلوں میں داخل ہوکر لوٹ مار کرنے والے افراد کے آگے پولیس بے بس دکھائی دیتی ہے یا پھر ممکن ہے کہ پولیس کی نظر میں یہ وارداتیں اہم ہی نہ ہوں۔

شہر قائد میں روزانہ سینکڑوں افراد اسٹریٹ کرائمز میں اپنے قیمتی موبائل، نقدی، و دیگر سامان سے محروم کردئیے جاتے ہیں، سی پی ایل سی سے جاری حالیہ رپورٹ کے مطابق اسٹریٹ کرائمز کی زیادہ وارداتیں سرجانی ٹاؤن، گلشن اقبال، عزیز آباد، عائشہ منزل، ناظم آباد، ناگن چورنگی، لیاقت آباد، گلستان جوہر ودیگر علاقوں میں رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ اسی رپورٹ میں تعداد کے حساب سے کرمنلز کا پسندیدہ ترین علاقہ عزیز بھٹی تھانے کی حدود شمار کی گئی۔

رواں سال کے  دہ ماہ میں گزشتہ برس کی طرح اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافہ دیکھا گیا، اسٹریٹ کرمنلز کا آسان ہدف موٹر سائیکل پر بیٹھی ہوئی فیملیز ہوتی ہیں، جو رات کے اوقات میں شادی ہالز سے واپسی پر گھر آرہے ہوتے ہیں، یا پھر دوپہر کے وقت اندرونی گلیوں میں سناٹے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسٹریٹ کرمنلز باآسانی کارروائی کرکے فرار ہوجاتے ہیں۔

crime-post-2

ڈی آئی جی اور سی سی پی او کراچی نے گزشتہ دنوں میڈیا سے گفتگو میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے کا اعتراف کیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اسٹریٹ کرمنلز کے ہاتھوں بے بس ہے جبکہ اسٹریٹ کرمنلز کے آگے مزاحمت کرکے اپنا قیمتی مال بچانے والے زخمی شہری ہی پولیس اسنیپ چیکنگ سے متاثر ہوتے نظر آتے ہیں۔


اسٹریٹ کرائمز سے بچنے کے طریقے


گھر سے نکلتے وقت آیۃ الکرسی اور دعا پڑھ کر ضرور نکلیں کیونکہ احادیث مبارکہ میں اس کا مفہوم بیان کیا گیا ہے کہ ’’جو شخص گھر سے آیۃ الکرسی پڑھ کر نکلتا ہے تو پھر اس کی حفاظت کی ذمہ داری فرشتوں کے ذمہ ہوتی ہے‘‘۔

شہری بھی ان وارداتوں کی ایف آئی آر درج کرانے تھانے جانے سے کتراتے ہیں کیونکہ اس کی اہم وجہ پولیس کا رویہ ہے۔ شہری تھانے جانے کے بجائے نیا موبائل لینے کو فوقیت دیتے ہیں تاکہ انہیں متعلقہ تھانے کی طرف سے تنگ ہونے کا سامنا نہ ہو۔

اسٹریٹ کرائمز کو ختم کرنے کے لیے شہریوں کو تھانے رپورٹ درج نہ کروانے کی روایت کو ختم کرنا ہوگا، متاثرہ شخص کو چاہیے کہ وہ مذکورہ واقعے اطلاع اور رپورٹ تھانے کو ضرور دیں تاکہ پولیس کو بھی جرائم کی وارداتوں کا صحیح تعداد میں علم ہوسکے اور افسران عوام کو ریلیف دینے کےلیے پلان مرتب کرسکیں۔

crime-post-1

جب آپ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کسی تقریب سے گھر واپس جارہے ہوں تو یہ بات پہلے سے ذہن نشین کرلیں کہ رات کے اوقات میں آپ کے ساتھ اس طرح کا واقعہ رونما ہوسکتا ہے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتی سامان کو اپنی بائیک یا گاڑی کی کسی خفیہ جگہ پر رکھیں اور اگر موٹر سائیکل پر ہوں تو موٹر سائیکل کور کی جیب میں یا پھر ساتھ میں موجود بچوں کی جیب میں رکھ دیں۔

اسی طرح خواتین اپنی قیمتی جیولری اتار کر مرد حضرات کی جیب میں رکھوا دیں کیونکہ معاشی حالات سے تنگ اسٹریٹ کرمنلز جیولری دیکھ کر بھی آپ کا پیچھا کرکے اس سے محروم کرسکتے ہیں۔

گھر قریب پہنچ کر ایک نظر پیچھے مڑ کر  ضرور دیکھیں کہ کوئی آپ کا پیچھا تو نہیں کررہا، اگر کوئی موٹر سائیکل پر آپ کا پیچھا کررہا ہو تو آپ موقع دیکھ کر کسی دکان یا پھر رش والی جگہ پر کچھ دیر ٹھہر جائیں کیونکہ اسٹریٹ کرمنلز اتنی دیر رُک کر آپ کا انتظار نہیں کرے گا اور اس طرح آپ محفوظ رہ کر اپنے گھروں کو روانہ ہوجائیں گے۔

اگر اسٹریٹ کرمنل گاڑی کے سامنے آکر آپ کو روکے تو آپ کم ازکم اس کی نظروں سے نظریں ضرور ملائیں کیونکہ آپ کے ڈر اور خوف کو دیکھتے ہوئے جرائم پیشہ شخص فائدہ اٹھا کر اسلحہ آپ کی طرف تان دیتا ہے، ایسی صوتحال میں اپنے اعصاب پر مکمل قابو رکھیں تاہم اگر وہ سامان یا قیمتی اشیاء طلب کر تو فوری دے دیں۔

امید ہے کہ اسٹریٹ کرمنلز سے بچنے کے ان طریقوں پر عمل کرکے آپ اپنے قیمتی سامان سے محروم نہ ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں