کراچی: اسٹریٹ کرائمز کا عفریت بے قابو ہوگیا، شہری غیرمحفوظ، پولیس بے بس -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی: اسٹریٹ کرائمز کا عفریت بے قابو ہوگیا، شہری غیرمحفوظ، پولیس بے بس

کراچی: شہرِ قائد میں گزشتہ 9 ماہ میں شہری ایک ہزار 59 گاڑیوں اور 20 ہزار5 سو موٹر سائیکلوں سے محروم ہوئے، جرائم کے پریشان کن اعداد و شمار نے کراچی آپریشن پر سوالیہ نشان لگا دیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں لٹیروں کا راج عروج پر ہے، لٹیرے رات ہی نہیں، دن دہاڑے بھی وارداتیں کر کے نکل جاتے ہیں، جرائم کے اعداد و شمار نے کراچی آپریشن کی قلعی اُتار دی۔

جرائم کی نان اسٹاپ وارداتیں کراچی آپریشن پر سوالیہ نشان!

شہرِ قائد میں ڈاکو راج کے باعث آئے دن دکانیں لٹتی ہیں تو کہیں کسی کے گھر میں ڈکیتی کی واردات ہو جاتی ہے، کہیں راہ چلتے شہری موبائل فون سے محروم ہو جاتا ہے، تو کہیں کسی کی گاڑی چِھن جاتی ہے۔

جرائم کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 9 ماہ میں شہری ایک ہزار 59 گاڑیوں، 20 ہزار5 سو موٹر سائیکلوں سے محروم ہوئے، جب کہ 24 ہزار 660 موبائل فونز چوری یا چھین لیے گئے۔

اغوا برائے تاوان، بینک لوٹنے والوں اور قاتلوں کی سرگرمی جاری

گزشتہ نو ماہ میں اغوا برائے تاوان، بینک لوٹنے والے اور قاتل بھی سرگرم رہے، اس دوران اغوا کی 7 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جب کہ 3 بینک لوٹے گئے، مختلف وارداتوں میں 229 شہری بھی قتل ہوئے۔


یہ بھی ملاحظہ کریں:  کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد


روک سکو تو روک لو!!!

اسٹریٹ کرمنلز  اپنی مسلسل وارداتوں کے ذریعے کراچی پولیس اور رینجرز کے لیے چیلنج بن گئے ہیں، جرائم کے خاتمے کے لیے اجلاس پر اجلاس، چھاپے، گرفتاریاں اور دعوے سب بے سود ثابت ہوئے۔

اس صورتِ حال میں عوام خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں، شہریوں نے اپنی مدد آپ کا فیصلہ کر لیا، اپنی حفاظت خود کرتے ہوئے ایک اور واردات ناکام بنا دی۔

شارع نور جہاں کے علاقے میں ڈکیتی کی کوشش پر اہلِ خانہ نے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزاحمت کی جس پر ڈاکوؤں کو فرار ہونا پڑ گیا، دوسری طرف بلدیہ ٹاؤن سعید آباد میں شہریوں نے مبینہ اغوا کار پکڑ لیا، پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں