The news is by your side.

Advertisement

پی ایس ایل 3: کس میں کتنا ہے دم، ایونٹ میں شریک ٹیموں کا ماہرانہ تجزیہ

تجزیہ: شاہد ہاشمی

پاکستان سپر لیگ کا تیسرا ایڈیشن اپنے جلو میں بے شمار ہنگامہ خیزی اوررنگینیاں لیے آیا ہی چاہتا ہے۔ اس بار ہوگا پہلے سے زیادہ ایکشن، تھرل اور پہلے سے زیادہ میچز، کیونکہ اس بار چھ ٹیمیں مدمقابل ہیں۔ ملتان سلطانز بھی میدان میں اتر چکے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اس کو نئے افق پر لے جاکر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو نئی دنیاؤں سے روشناس کرانے کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے اسٹیڈیم، نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں بالآخر نو سال بعد ایک عالمی سطح کا ایونٹ منعقد ہوگا۔ سیزن کا فائنل اسی گرائونڈ میں کھیلا جائے گا۔ اس مقابلے کے لیے زور وشور سے تیاریاں جاری ہیں۔

آئیں جائزہ لیتے ہیں کہ پی ایس ایل کی چھ ٹیموں میں سے کس کی کتنی استعداد ہے اور ان میں سے کون فائنل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پشاور زلمی

پشاور زلمی میں کامران اکمل، حارث سہیل ، تمیم اقبال، تیمور سلطان اور ابتسام شیخ جلوے دکھائیں گے، جب کہ آل راؤنڈرز میں محمد حفیظ، شکیب الحسن، ڈیوین براوو ، ڈیرن سیمی، حماد اعظم اور سعد نسیم اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔

باؤلنگ سائیڈ دیکھی جائے، تو اسپنرز میں محمد اصغر جب کہ فاسٹ باؤلرز میں وہاب ریاض ، حسن علی، کرس جارڈن اور سمین گل اپنے جوہر دکھائیں گے۔ دیگر اہم کھلاڑیو ں میں اینڈرے فلیچر، ایوین لوئیس، خالد عثمان اور محمد عارف کے نام موجود ہیں۔

پشاور زلمی جو اس سال اپنے ٹائٹل کا دفاع کرے گی، وہ اس بار اسٹا رکرکٹر شاہد خان آفریدی سے محروم ہے۔ سپراسٹار کراچی کنگز میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ البتہ زلمی کے پاس ویسٹ انڈیز کو دو بار ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جتوانے والے کپتان ڈیرن سیمی موجود ہیں۔

یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بنگلا دیش کے تمیم اقبال اور شکیب الحسن پی ایس ایل کے کتنے میچز کھیل پائیں گے، کیوں کہ انہیں 8 تا 18 مارچ بنگلا دیش، سری لنکا اور بھارت کے مابین منعقدہ سہہ فریقی سیریز میں بھی شریک ہونا ہے، شاید یہ دونوں اہم کھلاڑی ابتدائی پانچ میچز کے بعد دستیاب نہ ہوں۔ ان کی جگہ کامران اکمل اور محمد حفیظ کو ٹاپ آرڈر جب کہ ڈیوین براوو اور حارث سہیل کو مڈل آرڈر پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

باؤلنگ سائیڈ میں اس سال ایک روزہ میچز میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے حسن علی کی موجودگی پشاور زلمی کو مضبوط کرے گی۔ ان کے ہمراہ وہاب ریاض اور کرس جارڈن بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسپن اٹیک کے لیے حفیظ کا کردار اہم ہے۔

لاہور قلندرز

لاہور قلندرز کے پاس بلے بازی کے لیے برینڈن میک کیلم، فخر زمان، عمر اکمل، کرس لین، کیمرون ڈیل پورٹ اور سہیل اختر موجود ہیں، آل راؤنڈرز میں عامر یامین، امید یوسف اور بلال آصف سے امیدیں وابستہ ہیں۔

باؤلنگ کی جانب نگاہ کی جائے تو سنیل نارائن، یاسر شاہ ،رضا حسن اور آغا سلمان جیسے مضبوط نام سامنے آتے ہیں، فاسٹ باولرز میں سہیل خان، مستفیظ الرحمان، شاہین شاہ آفریدی، غلام مدثر اور سلمان ارشان موجود ہیں۔ دیگر کھلاڑیوں میں مشعل میک کلنگھم اور گلریز صدف موجود ہیں۔

بد قسمتی سے پی ایس ایل کی نمایاں ٹیموں میں شامل لاہور قلندرز گذشتہ دو ایڈیشنز میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ البتہ اس بار ان کے پاس کرس لین جیسا کھلاڑی موجود ہے، جوٹی ٹوئنٹی میچز کو سنسنی خیز بنانے کا ہنر اچھی طرح جانتے ہیں۔ محمد رضوان کی جگہ آنے والے سہیل خان بھی یقیناً ٹیم میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہوں گے۔

کراچی میں پاکستان سپر لیگ کے انعقاد سے مثبت پیغام جائے گا: شاہد آفریدی

اسپننگ سائیڈ بھی ٹیم میں سنیل نارائین اور یاسر شاہ کی موجود گی کے سبب مضبوط ہوئی ہے، تاہم بلال آصف فی الحال انجرڈ ہیں اور انہیں ریکور ہونے کے لیے وقت درکار ہے، فاسٹ باؤلنگ میں سہیل اور عامر یامین بھی اپنا جادو جگائیں گے۔ البتہ بلاول بھٹی کی انجری اور عرفان جونیئر کے کراچی کنگز جانے کے سبب یہ شعبہ مشکلات کا شکار رہے گا۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے سلمان ارشاد کی پرفارمنس کو اہم تصور کیا جارہا ہے۔

لاہور کی خامی ان کا مڈل آرڈر ثابت ہوگی، تاہم اس سے عمر اکمل کو موقع ضرور ملے گا کہ وہ پی ایس ایل 2 کی طرح دھواں دھار کاکردگی دکھا کر قومی ٹیم میں اپنی واپسی کی راہ ہموار کریں۔

ملتان سلطانز

پی ایس ایل میں پہلی بار شامل ہونے والی ٹیم ملتان سلطانز کے پاس بلے بازوں کی فہرست میں جو نام ہیں، ان میں شعیب ملک، کمار سنگا کارا، صہیب مقصود، ڈیرن براوو، احمد شہزاد، شان مسعود، نک پوراںِ عبداللہ شفیق، سیف بدر اور عرفان خان شامل ہیں۔

آل راؤنڈر کے طور پراس ٹیم میں صرف سہیل تنویر ہیں جب کہ باؤلنگ کی بات کی جائے تو عمران طاہر بطور اسپنر ہوں گے اور محمد عرفان، جنید خان اور محمد عباس بطور فاسٹ باؤلر اپنا جلوہ دکھائیں گے، دیگر کھلاڑیوں میں ہارڈس ول جوائن، عمر گل، عمر صدیق اور روز وائٹلے شامل ہیں۔

کراچی !! پھر ملیں گے فائنل میں، کراچی کنگز کے روی بوپارہ پُرعزم

پی ایس ایل کی یہ نئی فرنچائز سابقہ مہنگی ترین ٹیم، یعنی کراچی کنگز سے دگنی مالیت کی ہے۔ وسیم اکرم اور ٹام موڈی کے مشوروں پر متوازن ٹیم منتخب کی گئی ہے۔ شعیب ملک بھی اسی ٹیم کا حصہ ہیں، جنھوں نے سابق دو ایڈیشنز میں کراچی کنگز کی نمائندگی کی تھی، مگر ان کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی. اس بار انھیں اپنی پرفارمنس ثابت کرنی ہوگی۔ کیرن پولارڈ اور براوو ٹاپ آرڈر پر ٹیم کے لیے ایک اچھا کمبنی نیشن ثابت ہوں گے۔ احمد شہزاد اور صہیب مقصود کو بھی اپنی پرفارمنس ثابت کرنا ہوگی۔

ملتان سلطان کی لائن اپ کا سقم یہ ہے کہ ان کے پاس محض ایک اسپنر ہے، یو اے ای کی وکٹ پر انھیں اسپینر کی کمی محسوس ہوگی۔

کراچی کنگز

کراچی کنگز کو پی ایس ایل کی سب سے زیادہ مقبول ٹیم تصور کیا جاتا ہے، ان کے پاس بلے بازی کےمیدان میں کولن انگرام، جو ڈینلے، خرم منظور، بابر اعظم اور محمد رضوان جیسے کھلاڑی موجود ہیں، جب کہ آل راؤنڈرز میں اسٹار کرکٹر شاہد آفریدی، روی بوپارا، عماد وسیم، ڈیوڈ ویزے اور حسن محسن جیسے اہم نام موجود ہیں، جن سے پی ایس ایل شائقین کو خاصی امیدیں‌ ہیں.

باؤلنگ سائیڈ پر دیکھا جائے، تو اسپنرز میں اسامہ میر جب کہ فاسٹ باؤلرز میں محمد عامر، تیمل ملز، عثمان شنواری، تابش خان اورمحمد عرفان جونیئر جیسے نام شامل ہیں۔ دیگر کھلاڑیو میں لینڈل سائمنز، ایوین مورگن اور سیف اللہ بنگش موجود ہیں۔

کراچی کنگز پی ایس ایل کی وہ ٹیم ہے، جس نے سب سے زیادہ تبدیلیاں کی گئیں، کرس گیل اور سہیل خان کو ڈراپ کرکے ان کی جگہ شاہد خان آفریدی جیسے سپراسٹار کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف تماشائیوں کے جوش و خروش میں اضافہ ہوگا، بلکہ ٹیم کا مورال بھی بلند ہوگا. شاہد خان آفریدی کسی بھی ٹی ٹوئنٹی میچ میں محض چند گیندوں میں مقابلے کا پانسہ پلٹنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں۔

سہیل خان کی کمی تیمل ملز پوری کریں گے، جب کہ محمد عامر بھی اپنا تیز رفتار فن دکھانے کے لیے میدان میں موجود ہوں گے۔ محمد عرفان جونیئر اور عثمان خان شنواری بھی کراچی کنگز کے حق میں ایک بڑے فیکٹر کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

کولن انگرام، جو دینلے اور خرم منظور سے امید کی جارہی ہے وہ ٹیم کو ایک اچھا اسٹارٹ فراہم کریں گے تاہم بابر اعظم بھی ٹیم کو سنبھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس آل راؤنڈرز بھی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

ٹیم میں شاہد آفریدی کی موجود گی، جب کہ نئے کپتان عماد وسیم کی مناظر میں آمد کراچی کنگز کی پرفارمنس پر گہرے اور مثبت کردار ادا کرسکتی ہے.

اسلام آباد یونائیٹڈ

پہلا سیزن اپنے نام کرنے والی اس ٹیم کے بلے بازوں میں مصباح الحق، افتخار احمد، آصف علی، جے پی ڈومینی، لیوک رونچی، سیم بلنگز، صاحبزادہ فرحان اور طلعت حسین شامل ہیں۔ آل راؤنڈرز میں اینڈرے رسل، شاداب خان اور فہیم اشرف اپنا ہنر آزمائیں گے۔

اسپن اٹیک میں‌ سیموئل بدری اور ظفر گوہر موجود ہیں، فاسٹ باؤلرز میں محمد سمیع ، رومان رئیس اور عماد بٹ نمایاں‌ ہیں. دیگر کھلاڑیوں میں الیکس ہیلز، سمت پٹیل، اسٹیو فن محمد حسن اور محمد حسنین شامل ہیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے مداح یقیناً شرجیل خان اور خالد لطیف کی کمی محسوس کریں گے، دونوں کھلاڑی گذشتہ سال اسپاٹ فکسنگ کے الزام کے سبب ٹیم سے باہر ہوگئے تھے۔ فرنچا ئز نے ڈیوین اسمتھ کو بھی اس سال ریلیز کردیا ہے، تاہم اینڈرے رسل کی واپسی یقینی طور پر خوش آئند ثابت ہوگی۔

کراچی کنگزکے آفیشل گانے ’’ دے دھنا دھن ‘‘ کی ویڈیو ریلیز

شین واٹس تو ٹیم میں‌ نہیں. ان کی جگہ جے پی ڈومنی، لیوک رونچی اور صحبزاداہ فرحان بلے بازی کے جوہر دکھائیں گے۔ سیم بلنگز بھی آخر کےمیچز میں میسر ہوں گے. ٹیم کی سب سے مضبوط اور قابل بھروسہ شخصیت مصباح الحق ہیں. دیکھنا یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد مصباح الحق کس طرح اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں.

فہیم اشرف کا انتخاب انتہائی اہم ہے، آصف علی، طلعت حسین اور احمد بٹ کو ٹیم میں برقرار رکھا ہے، شاداب خان میچ کے ہر شعبے میں‌ اپنی پرفارمنس کا مظاہرہ کریں گے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن میں حیرت انگیز طور پر ابھر کر سامنے آنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے پاس بلے بازی کے میدان میں سرفراز احمد، کیون پیٹرسن، ریلی روشو، عمرامین، اسد شفیق، رمیز راجا جونیئر، سعد علی اور سعود شکیل شامل ہیں۔ آل راؤنڈرز کے طور پر شین واٹسن، محمد نواز اور انور علی ٹیم کا حصہ ہیں۔

اسپنرز میں حسن خان، جب کہ فاسٹ بالرز میں میر حمزہ ، راحت علی اور جوفرہ آرکر اپنا جادو جگائیں گے۔ دیگر کھلاڑیوں میں جیسن رائے ، راشد خان، اعظم خان ، فراز احمد خان شامل ہوں گے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پی ایس ایل کی وہ ٹیم ہے جس کی تمام تر توجہ بڑے ناموں کے بجائے بہترین کمبی نیشن بنانے پر رہی ہے اور معین خان کی کوچنگ نے ٹیم کو یکجا کر رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ایس ایل کے دونوں سیزن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز رنر اپ رہے۔ اگر یہ ٹیم ٹائٹل جیت جاتی ہے، تو حیرت نہیں ہوگی۔

پی سی ایل تھری: کراچی کنگز اور معروف برانڈ نورپور میں‌ معاہدہ طے پا گیا

کوئٹہ کی بیٹنگ لائن کیون پیٹرسن، رلی روشو، سرفراز، اسد شفیق اور محمد اللہ کی موجودگی کے سبب انتہائی مضبوط ہے اور یہی ٹیم کی طاقت ہے۔ سعد علی اور سعود شکیل بھی رن بنانے کی اپنی حیرت انگیز صلاحیت کے سبب ٹیم میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

شین واٹسن یقیناً پریرا کی جگہ پر کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ جبکہ انور علی کے پاس بھی اپنی کارکردگی منوانے کا بے مثال موقع ہے۔ عمر گل اور تیمل ملز کے جانے سے یقیناً ٹیم میں فاسٹ باؤلرز کی کمی محسوس ہو گی تاہم جوفرہ آرکر اگر اپنے گھٹنے کی انجری سے صحت یاب ہوجاتے ہیں تو وہ اس کمی کا مداوا کرتے نظر آئیں گے۔ راحت علی کو منتخب کرنے سے لگ رہا ہے کہ اس بار کوئٹہ زیادہ تر اسپنرز پر انحصارکرنے جارہی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں