The news is by your side.

Advertisement

طالب علم بدفعلی کیس : ملزم مفتی عزیزالرحمان کی درخواست ضمانت خارج

لاہور : سیشن عدالت نے مدرسہ کےطالب علم سے بدفعلی کیس میں ملزم مفتی عزیزالرحمان کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔

تفصیلات کے مطابق سیشن عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج نعمان نعیم نے طالب علم بدفعلی کیس میں مفتی عزیزالرحمان کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اسکا بدفعلی کیس سے کوئی تعلق نہیں. سازش کے تحت کیس میں ملوث کیا گیا، جس ویڈیو کے وائرل ہونے پر گرفتار کیا گیا ایسی ویڈیو چند منٹ میں کمپیوٹر پر بناٸی جا سکتی ہے۔

ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ مقدمہ کا چالان عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے ایسے میں ملزم کو جیل میں قید رکھنے کا کوئی جواز نہیں ۔

مدعی کے وکیل نے مزید کہا کہ ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد ہیں اور ضمانت ملنے پر وہ کیس پر اثر انداز ہو سکتا ہے لہذا درخواست مسترد کی جاٸے، جس پر عدالت نے وکلا کے دلاٸل مکمل ہونے پر مفتی عزیز الرحمان کی درخواست مسترد کر دی۔

یاد رہے رواں ماہ کے آغاز میں مقامی عدالت نے مدرسے کے طالب علم سے بدفعلی کے ملزم مفتی عزیر الرحمان اور اس کے پانچ بیٹوں پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم ملزمان نے صحت انکار کر دیا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم نے امتحان پاس کروانے کا لالچ دیکر طالب علم کے ساتھ متعدد بار بدفعلی کی،ویڈیو فرانزاک رپورٹ کے مطابق ملزم کا طالب علم سے بدفعلی کرنا ثابت ہوتا ہے ، ویڈیو حقائق پر مبنی ہے ملزم کو تفتیش میں گناہ گار قرار دیا گیا ہے ۔

خیال رہے مفتی عزیز الرحمن کی نازیبا ویڈیو لیک ہونے پر پولیس نے بدفعلی کا شکار ہونے والے نوجوان صابر شاہ کی درخواست پر مقدمہ درج کیا تھا، طالبعلم صابر شاہ کی مدعیت میں درج کئے گئے مقدمات میں 337 اور 506 کی دفعات شامل کی گئیں۔

مقدمے میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ مفتی عزیز الرحمن نے اسے امتحانات میں فیل کرکے بلیک میل کیا ، امتحانات میں پاس کروانے کا لالچ دیکر مبینہ طور پر کئی ماہ تک بد فعلی کی، شکایات کرنے پر اس کی کوئی شنوائی نہ ہوئی۔

ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس نے مفتی عزیزالرحمن ، انکے تین بیٹے اور تین نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ، جس کے بعد پولیس نے مفتی عزیز الرحمن اور ان کے ایک بیٹے کو گرفتار کرلیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں