لاہور (18 فروری 2026): فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور میں گزشتہ روز ایک طالبہ نے کالج کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی جس کے بارے میں پولیس نے ابتدائی رپورٹ دی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں ایک طالبہ نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج یونیورسٹی کے ہاسٹل کی چھت سے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر خودکشی کرلی تھی۔
رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کو سر میں شدید چوٹیں آئی تھیں جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم زیادہ خون بہہ جانے کے باعث جانبر نہ ہوسکی۔
پولیس حکام کے مطابق ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کی شناخت 22 سالہ فریحہ کے نام سے ہوئی ہے جس کے فائنل ایئر کے پیپر ہو رہے تھے، طالبہ دماغ میں چوٹ لگنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔
دوسری جانب پولیس حکام نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ متوفیہ فریحہ گزشتہ 6 ماہ سے بہت زیادہ ڈپریشن کا شکار تھی، اُس کا فائنل ایئر کا دوسرا پیپر 19 فروری کو ہونا ہے، ایک پیپر ہوچکا ہے اور دوسرے پیپر کی تیاری کر رہی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے جس کیلیے باقاعدہ طور پر میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دے دیا گیا ہے۔ فریحہ کا تعلق کشمیر سے تھا اور وہ اپنے والد کے ساتھ لاہور میں رہائش پذیر تھی۔
یہ پڑھیں: نجی کالج میں طالبہ کی دوسری منزل سے کود کر خودکشی کی کوشش ، حالت تشویشناک
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پنجاب کے ضلع نارووال میں واقع نجی کالج میں زیرِ تعلیم طالبہ نے دوسری منزل سے کود کر خودکشی کی کوشش کی تھی۔
پولیس نے بتایا تھا کہ واقعے میں طالبہ شدید زخمی ہو گئی، جسے تشویشناک حالت میں لاہور کے جنرل اسپتال منتقل کیا گیا۔
انتظامیہ کا کہنا تھا کہ طالبہ ہوش میں ہے، تاہم اس کے سر کے اگلے حصے کی ہڈی فریکچر ہو چکی ہے۔
ڈی پی او نارووال نوید ملک کا کہنا تھا کہ طالبہ کمپیوٹر سائنس کے پانچویں سمسٹر کی طالبہ ہے، ابتدائی رپورٹ کے مطابق طالبہ نے گھریلو مسائل کے باعث خودکشی کی کوشش کی۔
لاہور: فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی چھت سے طالبہ نے چھلانگ لگادی
حسن حفیظ ایک نوجوان صحافی ہیں اور اے آر وائی نیوز لاہور کے لئے صحت، تعلیم اور ایوی ایشن سے متعلق خبریں رپورٹ کرتے ہیں


