The news is by your side.

Advertisement

پشاور: طالب علم پولیس حراست میں جاں بحق، وزیراعلیٰ کا نوٹس

پشاور میں 7ویں جماعت کے طالب علم پولیس حراست میں جاں بحق ہوگیا، وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پشاور میں 7ویں جماعت کا طالب علم شاہ زیب دوران حراست جاں بحق ہوگیا، وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی منظوری دیتے ہوئے ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔

وزیر اعلیٰ کے پی کا کہنا ہے کہ واقعے کی شفاف، غیرجانبدار تحقیقات کرائی جائیں گی، ملوث اہلکاروں کو نشان عبرت بنائیں گے۔

محمود خان نے جاں بحق طالب علم کے اہلخانہ سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مکمل انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

بیٹا گھر سے تصویر بنوانے نکلا تھا، والد

طالب علم شاہ زیب کے والد کا کہنا ہے کہ بیٹا گھر سے تصویر بنوانے نکلا تھا پولیس نے حراست میں لیا، تھانے پہنچا تو تین گھنٹے بعد مجھے کہا گیا لڑکے نے خودکشی کرلی ہے۔

والد نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے بچے کو تشدد کرکے مارا، بچنے کے لیے تشدد زدہ لاش کو رسی سے باندھ کر لٹکا دیا۔

گورنر خیبرپختونخوا کا آئی جی سے رابطہ

دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے آئی جی کے پی سے رابطہ کیا، گورنر نے آئی جی کو واقعے کی مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

شاہ فرمان نے کہا کہ طالب علم کو حراست میں رکھنے کی کیا وجوہات تھیں، ایسی کیا وجوہات پیش آئیں کہ طالب علم کو مبینہ خودکشی کرنی پڑی؟ دوران حراست طالب علم کی موت انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔

طالب علم کے پاس اسلحہ تھا، سی سی پی او

سی سی پی او پشاور کا کہنا ہے کہ پولیس اسٹیشن غربی کے عملے کو معطل کردیا ہے، واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے لیے لکھ دیا گیا ہے، طالب علم کا بازار میں جھگڑا ہوا تھا اور اس کے پاس اسلحہ موجود تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں