The news is by your side.

Advertisement

انگریزی ادب کی طالبہ کامیاب کاشتکار کیسے بنی ؟ سنیے ان کی اپنی زبانی

کراچی : پنجاب کے شہر پاکپتن سے تعلق رکھنے والی سحر اقبال نہ صرف ایک باصلاحیت اور تعلیم یافتہ خاتون کاشتکار ہیں بلکہ  شعبہ زراعت میں جدید طرز کو متعارف کرانے میں ان کا اہم کردار ہے۔

انگریزی ادب میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود انہوں نے کاشت کاری کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں، انہوں نے کھیتوں  میں کام کرنے والی خواتین کو جدید انداز میں کام کرنے کی تربیت دی اور مارکیٹنگ میں مہارت کے سبب ان کی فصلوں کی اچھی  قیمت بھی وصول ہورہی ہے۔

سحر اقبال ساہیوال میں پیدا ہوئیں اور بنیادی تعلیم بھی وہیں حاصل کی اور بعد ازاں لاہور منتقل ہوگئیں، انہوں نے کنیئرڈ کالج سے انگلش لٹریچر میں گریجویشن کی۔

اس کے بعدکچھ  عرصہ صحافت کی اور پھر  پبلک ریلیشنز سیکٹر میں آ گئیں اور ایک فرم کے لیے کنسلٹنٹ کے طور پر کام کیا پھر ان کی شادی ہوئی اور  وہ پاکپتن آ گئیں۔

سحر ایک کمیونٹی ڈویلپر ہیں، کارپوریٹ بزنس وومن ہیں، انگلش لٹریچر میں ڈگری ہولڈر ہیں، پبلک ریلیشنگ آفیسر، سرکاری ملازمہ  اور صحافی بھی رہ چکی ہیں، اس کے علاوہ اب ایک ماں اور بیوی ہیں، وہ یہ سب کردار ایک ساتھ بخوبی نبھا رہی ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں بطور مہمان خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سحر اقبال کا کہنا تھا کہ تعیلم حاصل کرنے کے بعد میری شادی ہوگئی میرے شوہر بھی تعلیم یافتہ ہیں اور ان کا تعلق پاکپتن کے زمیندار گھرانے سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ شادی کے دوسال تک میں نے کچھ نہیں کیا، اس کے بعد اپنے شوہر کی اجازت سے ان کی زمینداری کا کام دیکھنا شروع کیا اور اس میں بہتری کیلئے کوششیں کیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارا ملک زرعی ملک ہے اگر  سرکاری سطح  پر  زراعت کے شعبے کو خصوصی توجہ دی جائے توکوئی وجہ نہیں کہ اس میں ہم مزید کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں