The news is by your side.

Advertisement

گولان پہاڑیوں پراسرائیلی تسلط تسلیم کرنے کا امریکی اعلامیہ، سعودی عرب نے مذمت کردی

ریاض: سعودی عرب نے امریکا کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی تسلط کو تسلیم کرنے کی مذمت کردی،اس علاقے کو اقوام متحدہ اور خلیجی تعاون کونسل نے تاحال شام کے مقبوضہ علاقے کا رتبہ دے رکھا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت امریکا کو تنبیہہ کرتی ہے کہ اس کے اس عمل سے مشرق وسطیٰ میں جاری امن عمل کو سنگین نقصانات پہنچیں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی تسلط کو تسلیم کرنے سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جاری امن عمل کو نقصان پہنچے گا بلکہ خطے میں امن وا ستحکام کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکا صدر نے اس حوالے سے تمام خطرات کے باوجود امریکا کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا تسلط با ضابطہ طور پر تسلیم کرنے کےاعلامیے پر دستخط کردیے تھے۔

اسرائیل نے شام کی حدود میں واقع گولان کی پہاڑیوں پر سنہ 1967 کی مشرق وسطیٰ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا اور سنہ 1981 میں اسے اپنا حصہ قرار دے دیا تھا، تاہم اس وقت سے آج تک عالمی برادری نے اسے اسرائیل کو حصہ تسلیم نہیں کیا تھااور امریکا اس علاقے کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے والا پہلا ملک ہے۔

گولان ہائیٹس پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرنا افسوس ناک ہے، جی سی سی

سعودی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سوموار کے روز جاری ہونے والا امریکی اعلامیہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یادرہے کہ گولان کی پہاڑیاں تاریخی طور پر شام کاعلاقہ ہیں اور ملک میں جاری خانہ جنگی پر قابو پانے کے بعد گزشتہ برس جولائی میں شامی افواج نے ان پہاڑیوں کے نزدیک اہم ٹھکانے قائم کیے تھے جہاں سے پہاڑیوں پر موجود اسرائیلی افواج کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔ اسرائیل نے شام کو دھمکی بھی دی تھی کہ اگر شامی افواج نے ان پہاڑیوں پر کسی قسم کی فوجی سرگرمی کرنے کی کوشش کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

گولان کی پہاڑیاں 1200 مربع کلومیٹر پرپھیلی ایک پتھریلی سطح زمین ہے جو کہ شامی دارالحکومت دمشق سے تقریباََ 60 کلومیٹرجنوب مغرب میں واقع ہیں۔

شام میں ایران کے اثرو رسوخ کے سبب ہمیشہ سے اسرائیل گولان کی پہاڑیوں کے شامی کنٹرول میں رہنے کو نقصان دہ سمجھتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ شام ، ایران کو ان پہاڑیوں کے ذریعے اسرائیل پر حملے کرنے کے لیے رسائی دے سکتا ہے، جس کے سبب ان پہاڑیوں کا اسرائیلی تسلط میں ہونا ضروری ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 مارچ کوسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ 52 سال بعد امریکا کو گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کی مکمل بالادستی تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔

امریکی صدر کے اس ٹویٹ کے جواب میں اسرائیلی وزیر اعظمب نجامن نیتن یاہو نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ ’رات اپنے دوست صدر ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، اور گولان ہائیٹس سے متعلق گفتگو ہوئی، ہمیں ٹرمپ سے بہتر دوست نہیں مل سکتا۔ شکریہ صدر ٹرمپ، شکریہ امریکا، صدر ٹرمپ نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کرکے تاریخ رقم کردی۔

مزید پڑھیں : گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کی مکمل بالادستی تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ

خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل عبداللطیف بن راشد الزیانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گولان ہائیٹس پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کرنے کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ کے ان مؤقف سے حقیقت تبدیل نہیں ہوگی، جی سی سی گولان ہائیٹس کو بلا شبہ شام کا حصّہ سمھجتی ہے۔

خلیج تعاون کونسل کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے گولان کی پہاڑیوں کو متنازعہ علاقہ قرار دیا تھا اور جی سی سی یو این کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے کہ اور اسے شام کا مقبوضہ علاقہ سمھجتا ہے جس پر ناجائز ریاست اسرائیل نے جون 1967 میں قبضہ کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں