اسلام آباد (16 اکتوبر 2025): آئے دن سلنڈر پھٹنے کے واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے بڑے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ملک میں آئے دن گیس سلنڈر پھٹنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ان واقعات میں اب تک درجنوں قیمتی انسانی جانیں ضائع اور کئی زندگی بھر کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔
سلنڈر پھٹنے کے حادثات کی تحقیقات میں اکثر وجوہاں سلنڈر کا غیر معیار اور ناقص ہونا پایا جاتا ہے۔ حکومت نے ان حادثات کی روک تھام کے لیے ایل پی جی سلنڈرز کی تیاری اور فروخت کے خلاف ملک گیر آگہی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ان واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت کو غیر معیاری سلنڈرز بنانے پر قید اور جرمانے کی سزائیں بڑھانے کی سفارش کی ہے۔
اوگرا نے کابینہ ڈویژن کو سفارش کی ہے کہ غیر معیار سلنڈرز بنانے پر جرمانہ تین ہزار سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے جب کہ قید کی سزا 6 ماہ سے بڑھا کر 14 سال تک کی جائے۔
اوگرا حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ایل پی جی کی کھپت دو ہزار میٹرک ٹن سے بڑھ کر کئی گنا زیادہ ہو چکی ہے۔ ایسے میں بعض مقامی صنعتیں ناقص مٹیریل سے سلنڈرز بنا رہی ہیں۔
اوگرا کا کہنا ہے کہ غیر معیاری سلنڈرز چند ہزار روپے سستے ضرور ہوتے ہیں، مگر انسانی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔ صارفین دو تین ہزار کی بچت کیلیے انسانی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں غیر معیاری سلنڈرز بنانے والون کے خلا ف کارروائی ضروری ہو چکی ہے۔
حیدرآباد سلنڈر دھماکے کا ایک اور زخمی چل بسا، جاں بحق افراد کی تعداد 12 ہوگئی
اوگرا نے کہا کہ غیر معیاری سلنڈرزکیخلاف کارروائی صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں ہے۔ اگر کہیں غیر معیاری سلنڈرز تیار ہو رہے ہیں تو اس کی نشاندہی اور فلنگ اسٹیشنز کو فوری رپورٹ کرنا لازم ہے۔
گرین لائن بس گزرنے کے دوران گیس سلنڈر کی دکان میں ہولناک دھماکا، ویڈیو سامنے آ گئی
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


