site
stats
پاکستان

عوام کی صحت کا معاملہ ہے‘کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘چیف جسٹس

اسلام آباد : چیف جسٹس آف پاکستان کا کہناہےکہ غیررجسٹرڈاسٹنٹس سےمتعلق اہم معاملات کی سمری کی منظوری میں وزیراعظم نےتاخیرکیوں کی وضاحت کی جائے۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3رکنی بینچ نےغیررجسٹرڈاسٹنٹس ازخودنوٹس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ میں کیس کی سماعت کےدوران اسٹنٹس کی خرید و فروخت سے متعلق لائسنس جاری کرنے والی باڈی (کنفرمیٹیو اسسمنٹ باڈی) کیب کی جانب سے عدالت کوبتایاگیا کہ غیر معیاری اسٹنٹس کےحوالے سے ایک سمری منظوری کےلیےوزیراعظم کوبھیجی ہے۔

سپریم کورٹ نےرجسٹریشن باڈی کےقیام کی سمری کی منظوری میں تاخیر پروزیراعظم کےسیکریٹری سے سوال کیاکہ اہم معاملات کی سمری کی منظوری میں وزیراعظم نےکیوں تاخیرکی؟۔

وزیراعظم کےپرنسپل سیکریٹری نےجواب دیاکہ اسٹنٹ رجسٹریشن بورڈ سےمتعلق سمری زیرالتوانہیں ہے۔انہوں نےکہاکہ روایت بن گئی ہےسماعت سےایک روزپہلےسمری بھجوائی جاتی ہے۔

میاں محمدنوازشریف کےسیکریٹری نے عدالت کوبتایا کہ کہا جاتا ہے سمری وزیراعظم ہاؤس سے منظور نہیں ہوئی۔انہوں نےکہاکہ اس معاملے پرسنجیدگی سے نوٹس لے رہے ہیں۔

فواد حسن کا کہناتھاکہ وزیراعظم کی ہدایات ہیں صحت کی سمری اسی روزمنظوری کی جائے۔انہوں نےکہا کہ عدالت کویقین دلاتاہوں سمری جس روزملےگی اس روز منظوری دے دیں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نےحکم دیاکہ عوام کی صحت کا معاملہ ہے،10روز میں کمیٹی بنا کرمعاملے پرغورکیاجائےاورکمیٹی میں ڈاکٹرزسمیت تمام اسٹیک ہولڈر کوبھی شریک کیاجائے۔

جسٹس ثاقب نثارنےکہاکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی کوبھی عدالت دیکھے گی۔انہوں نےکہاکہ قائمہ کمیٹی کی رولنگ سے عدالت متاثر نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس نےکہاکہ جن میڈیکل ڈیوائسز کورجسٹرڈ کیا گیا فیصلہ آنے تک وہ استعمال ہوسکتی ہیں۔انہوں نےکہاکہ ڈی آر اے میڈیکل ڈیوائسز پردرخواستوں کاجائزہ اورایک ہفتے میں منظوری دے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریماکس دیےکہ مریض اورڈاکٹرکویہ پریشانی نہ ہو کون سااسٹنٹ رجسٹراور کون سا نہیں،انہوں نےکہاکہ ڈاکٹرکوحق نہیں پہنچتا کہ وہ غیر رجسٹرڈ اسٹنٹ کے لیے ضد کرے۔

چیف جسٹس کا کہناتھاکہ پاکستان میں مقامی طور پر ایک اسٹنٹ بنایا گیا،مقامی طورپرتیاراسٹنٹ ٹیسٹ کےلیےجرمنی بھجوایاگیا۔

انہوں نےکہاکہ پاکستان میں تیار اسٹنٹ کا شمار دنیاکےبہترین اسٹنٹس میں ہوتاہے۔جس پرچیئرمین ہارٹ پیشنٹ سوسائٹی نےکہاکہ پاکستان میں تیار اسٹنٹ تجرباتی مراحل میں ہے۔

واضح رہےکہ سپریم کورٹ نےغیررجسٹرڈاسٹنٹس سےمتعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت 10دن تک کے لیےملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top