The news is by your side.

Advertisement

سوڈانی فوج کی مظاہرین پرفائرنگ، 30 افراد جاں بحق،سینکڑوں زخمی

خرطوم: سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں عمر البشیر کے بعد حکومت پر قابض فوجی کونسل کے خلاف فوجی ہیڈکوارٹرز کے باہر دھرنے دے کر بیٹھے مظاہرین پر ہونے والی فوج کی فائرنگ سے 30 سے زائد افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی کیمپ پر دھاوا بول کر فائرنگ کرنے کے اقدام کی مذمت کردی۔

تفصیلات کے مطابق مظاہرین کے قریب موجود ڈاکٹروں کی کمیٹی کا کہنا تھا کہ خرطوم میں آرمی ہیڈکوارٹرز کے باہر موجود مظاہرین پر سوڈانی ملٹری کونسل نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 30 سے زائد افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہیں۔

سینٹرل کمیٹی آف سوڈان کا کہنا تھا کہ آرمی ہیڈ کوارٹر میں پیش آنے والے واقعے میں میں ہلاکتوں کی تعداد30 سے زائد ہوگئی ہیں۔ کونسل کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل شمس الدین کباشی نے اس الزام کی تردید کی ہے۔انھوں نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز احتجاجی کیمپ سے بھاگ کھڑے ہونے والے اکھڑ عناصر کا پیچھا کر رہی تھیں اور ان عناصر ہی نے افراتفری پھیلائی ہے۔

عبوری فوجی کونسل نے بعد میں ایک بیان میں کہا ہے کہ جس طرح واقعات پیش آئے ہیں، اس کو اس پر افسوس ہے۔ وہ شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے اور جلد سے جلد مذاکرات کا مطالبہ کرتی ہے لیکن تشدد میں اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتوں کے بعد مذاکرات کی فوری بحالی کا امکان نظر نہیں آتا۔سوڈان کے پبلک پراسیکیوٹر نے تشدد کے واقعات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ قبل ازیں ڈاکٹرز کی کمیٹی نے 13 افراد کی ہلاکت اور 116 زخمیوں کی تصدیق کی تھی۔

غیر ملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کی مطابق احتجاجی مظاہروں کی سربراہی کرنے والے افراد نے فوج کی فائرنگ کے بعد عوام سے ملک بھر میں نائٹ مارچ کرنے کی ہدایت کی ہے۔سوڈانیز پروفیشنلز ایسوسی ایشن نے مظاہرین کو مرکزی شاہراہ بند کرکے ملک بھر میں احتجاج کرنے پر زور دیا ہے۔

فوج نے خرطوم کے دو اضلاع بوری اور باہری کے علاوہ قریبی شہر میں عوام سے تصادم کیا ہے۔خیال رہے کہ مظاہرین کی جانب سے رواں برس اپریل میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے عمرالبشیر کے استعفے کے بعد حکومت سویلین کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فوج کے خلاف مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فوج کی جانب سے مظاہرین کے ایک کیمپ پر دھا وابول کر فائرنگ کرنے کے اقدام کی سختی سے مذمت کی ہے۔

انتونیو گوتریس کے ترجمان اسٹیفن کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے عوام پر طاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری جنرل نے سوڈانی حکام سے واقعے کی آزادانہ تفتیش کے لیے راہ ہموار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے ایک گروپ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سوڈان کی حکمراں فوجی کونسل پر پابندی عائد کردی جائے۔

امریکا نے بھی سوڈان فوج کی مظاہرین پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا بہتر تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے سویلین حکومت کے ساتھ ہوگا۔اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے افریقہ ٹیگور نیگی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم سوڈان کے پرامن مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہیں، امریکا کے ساتھ استحکام، بحالی اور شراکت داری سویلین حکومت سے کرے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں