The news is by your side.

Advertisement

سوڈان میں فوجی حکومت کا اپوزیشن کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال،126افرادہلاک

خرطوم: ایامِ عید پر لوگ گھروں میں محصور،فوجی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد کے ٹولے لوگوں کو دھمکاتے رہے ،اکثر علاقوں میں انٹرنیٹ بند، خرطوم ایئرپورٹ پر کئی پروازیں منسوخ سلامتی کونسل میں اس تشدد کے خلاف پیش کردہ اعلامیہ چین اورروس نے ویٹو کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سوڈان میں حالیہ تشدد کے نتیجے میں126افرادہلاک ہوگئے ،تاہم فوجی حکومت نے ان ہلاکتوں کی تردید کرتے ہوئے کہاہے کہ درجنوں افرادہلاک ہوئے ہیں لیکن تعداد سیکڑوں میں نہیں،جبکہ فوجی حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حوالے سے جامع تحقیقات کی جائیں گی۔

دوسری جانب سلامتی کونسل میں اس تشدد کے خلاف پیش کردہ ایک اعلامیے کو چین نے ویٹو کر دیا ہے۔ اس تناظر میں چین کوروس کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس افریقی ملک میں جاری اس تشدد کے خلاف عالمی برداری نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوڈان میں ملکی دارالحکومت خرطوم بدھ کے دن دریائے نیل سے مزید چالیس لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ یوں حالیہ پرتشدد واقعات کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 126تک جا پہنچی ہے ۔سوڈان میں بحالی جمہوریت کے لیے جاری مظاہروں میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد126 ہو گئی ، عید کے روز دارالحکومت خرطوم میں فوجی گاڑیاں گشت کرتی رہیں، ہوائی فائرنگ ہوتی رہی اور اکثر سڑکیں سنسان رہیں۔

اطلاعات ہیں کہ فوج کی جنجوید ملیشیا فورس کے اہلکاروں نے مظاہرین کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے۔ سوڈان کی جنجوید ملیشیا پر دارفور کی لڑائی کے دوران بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

سینٹرل کمیٹی آف سوڈانی ڈاکٹرز نے پچھلے دو روز سے جاری پرتشدد واقعات کی خبروں کے بعد بدھ کے روز ان کے فیس بک پیج پر ہلاکتوں کی تعداد126 بتائی ہے ،عینی شاہدین کے مطابق خرطوم میں فوجی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد کے ٹولے لوگوں کو دھمکا رہے ہیں۔ لوگوں میں خوف و ہراس ہے اور وہ عید جیسے موقع پر اپنے ہی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے جبکہ یہ بھی کیا گیا ہے کہ فوجی حکام نے اکثر علاقوں میں انٹرنیٹ بند کردیا ہے جبکہ خرطوم ایئرپورٹ پر کئی پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

تشدد کی تازہ لہر کا آغاز پیر کو اس وقت ہوا جب ملک کی عبوری ملٹری کونسل نے بحالی جمہوریت کے حامی مظاہرین کے ساتھ جاری مذاکرت ختم کرکے ان کے خلاف کارروائی شروع کردی۔ سوڈان میں کئی ماہ کے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد اس سال اپریل میں فوج نے صدر عمر البشیر کا تختہ الٹ دیا اور ان کے تیس سالہ دور اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ابتدا میں فوج نے مظاہرین کو اعتماد میں لے کر مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کا تاثر دیا۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اقتدار سولین قیادت کو منتقل کیا جائے۔حالیہ دنوں میں فوج اور جمہوریت حامی حلقوں کے درمیان کشیدگی، تصادم میں بدل چکی ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ سوڈان کے جرنیل فوجی اقتدار کو غیرآئینی اور غیر قانونی طول دینے کے لیے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

ادھر فوجی سربراہ نے کہا کہ وہ استحکام کی خاطر مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم اس کے باوجود ملکی فوج دارالحکومت خرطوم میں جمہوریت نواز مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔دوسری جانب سلامتی کونسل میں اس تشدد کے خلاف پیش کردہ ایک اعلامیے کو چین نے ویٹو کر دیا ہے۔ اس تناظر میں چین کوروس کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس افریقی ملک میں جاری اس تشدد کے خلاف عالمی برداری نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں