منگل, اگست 11, 2026
اشتہار

نہر سویز: جب برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کی افواج نے مصر پر حملہ کیا

اشتہار

حیرت انگیز

بحیرۂ احمر سے بحرِ روم کو ملانے کے لیے پہلی نہر فرعون کے دور میں (قبلِ مسیح) میں کھودی گئی تھی جب کہ نہر سویز کا اوّلین منصوبہ حضرت عمر کے دور میں شروع کیا گیا تھا، تاہم اس کا جدید نہر کی شکل میں استعمال 1869ء میں ہوا۔ یہ یورپ اور ایشیا کے درمیان تیز ترین روٹ سمجھا جاتا ہے اور اس نہر سے دنیا بھر کے لیے بحری جہاز گزرتے ہیں۔ 193 کلومیٹر (120 میل) لمبا یہ آبی راستہ سویز کینال اتھارٹی کی ملکیت اور مصر کے لیے زرِ مبادلہ کا اہم ذریعہ بھی ہے۔

مصر نے 1956ء میں نہر کو قومیایا تھا جس کے بعد اس کے شراکت داروں برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مصر پر حملہ کردیا تھا۔ اس زمانہ میں نہر سویز کا یہ بحران مصر کے 40 جہاز ڈوبنے پر اس وقت ختم ہوا جب امریکہ، روس، اقوامِ متحدہ نے مداخلت کی اور برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کو پسپا کردیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس تنازع اور جنگ کے بعد دونوں جانب کی فوجوں کے ڈیرے ڈالنے کی وجہ سے یہاں سے بحری جہازوں کی آمد و رفت متاثر رہی۔ مصر نے جنگ یوم کیپور کے بعد نہر سویز کا مکمل کنٹرل حاصل کیا اور اسے جون 1975ء میں دوبارہ کھول دیا۔ فرانس اور برطانیہ کی مصر کے خلاف فوجی ایکشن اور نہر سویز پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش تاریخ کا حصّہ ہے جسے سید نصیر احمد جامعی نے اپنی مرتب کردہ کتاب "تاریخی واقعات”‌ میں کچھ اس طرح تحریر کیا ہے:

یوں تو حکومتِ برطانیہ کے دل میں اسی دن سے مصری حکومت کے خلاف غم و غصہ کے جذبات تھے جس دن اس کی فوج کا آخری سپاہی سر زمینِ مصر سے رخصت ہوا تھا، مگر جمال عبد الناصر نے جب نہر سویز کو قومی ملکیت بنانے کا اعلان کیا تو حکومتِ برطانیہ کی برہمی کی کوئی انتہا نہ تھی۔

اس سے بہت پہلے مصر و برطانیہ کے روابط انقطاع کی حد تک پہنچ چکے تھے اور انگریز کوئی ایسا بہانہ تلاش کر رہے تھے جس کا سہارا لے کر وہ مصر پر حملہ کر دیں اور جمال عبد الناصر کا خاتمہ کر کے کوئی ایسی حکومت قائم کریں جو ان کی مرضی پر چلے۔

اب جب جمال عبد الناصر نے نہر سویز کو قومی ملکیت بنانے کا اعلان کیا تو برطانیہ کو ایک موقع ہاتھ آگیا۔ اس نے اپنے حلیف فرانس سے مشورہ لیا اور مصر پر حملہ کرنے کی ایک خوفناک سازش مکمل کر لی جس میں اسرائیل کو بھی شریک کر لیا گیا۔

برطانوی اور فرانسیسی حکومتوں نے فوراً قومی ملکیت کے خلاف بڑے سخت الفاظ میں ایک احتجاجی نوٹ تیار کیا، جسے سفیرِ مصر نے لینے سے انکار کر دیا۔ 31 جولائی 1956ء کو برطانیہ کے وزیر اعظم سر انتھونی ایڈن نے احتیاطی تدابیر کا اعلان کر دیا۔ اور مشرقی بحیرۂ روم کی طرف فوجیں روانہ کر دیں۔ اس کے ساتھ فرانس کو بھی اجازت دے دی کہ وہ اپنے فوجی دستے قبرص میں رکھ سکتا ہے۔ یہ سب کچھ دانستہ صدر ناصر کو خوف زدہ کرنے کے لیے کیا گیا۔

جب ناصر نے 26 جولائی کو نہر سویز کو قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کیا تو برطانیہ اور فرانس نے نہر میں جہازوں کی آمد و رفت کو ناکام بنانے کے لیے اپنے پائلٹ واپس بلا لیے۔ اس سے وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ مصر سویز کمپنی کو چلانے کا سرے سے اہل ہی نہیں ہے۔ اور سارا کام رک جائے گا۔ لیکن مصری انجینئروں، مستریوں اور مزدوروں نے نہر میں جہازوں کی آمد و رفت کو ممکن بنا کر ثابت کر دیا کہ مغربی ماہرین پر بھروسہ کیے بغیر سارا کاروبار چلا سکتے ہیں۔

ایڈن نے 16 اگست کو لندن میں ایک کانفرنس طلب کی اور یہ کانفرنس جن حالات میں منعقد ہوئی ان کا اندازہ صرف اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 30 جولائی سے 16 اگست تک کوئی ایسا دن نہیں گزرا تھا جب فرانس اور برطانیہ کے فضائی دستے اور بحری بیڑے مالٹا، قبرص اور دوسرے نامعلوم مقامات کے لیے روانہ نہ ہوئے ہوں۔ اس کا نفرنس میں مصر پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ قومی ملکیت کی اسکیم منسوخ کر دے اور جنگ کی دھمکی بھی دی گئی۔

اگر برطانیہ اور فرانس کی حکومتوں کا یہ خیال تھا کہ جنگ کی دھمکی سے مصر ڈر جائے گا تو ان کا یہ خیال غلط نکلا۔ اس پر برطانیہ نے نہر سویز کا مسئلہ کو انجمنِ اقوامِ متحدہ کی حفاظتی کونسل میں پیش کر دیا۔ ادھر مصری حکومت حفاظتی کونسل سے برابر یہ مطالبہ کر رہی تھی کہ مصر کے ساحل کے قریب برطانیہ و فرانس کا زبردست فوجی احتجاج امنِ عالم کے لیے خطرہ کا باعث ہے اور یہ طاقتیں مصر پر حملہ کرنے کا کوئی بہانہ تلاش کر رہی ہیں۔ سویز کا مسئلہ ابھی حفاظتی کونسل ہی میں تھا کہ اسرائیل کی فوجوں نے خطِ متارکہ جنگ کو پار کر کے مصر پر حملہ کر دیا۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس حملہ کی پشت پر برطانیہ و فرانس کا ہاتھ تھا اور تینوں ملکوں نے خفیہ فیصلہ کے ماتحت یہ کارروائی کی تھی۔

30 اکتوبر کو برطانیہ کے وزیر اعظم سر انتھونی ایڈن نے عجیب و غریب اعلان کیا کہ اگر مصر اور اسرائیل نے فوری طور پر لڑائی بند نہ کی تو برطانیہ فرانس کی مشترکہ فوجیں مشرق وسطی میں امن قائم رکھنے کے لیے سویز کے علاقہ پر قبضہ کریں گی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی اسرائیل، فرانس اور برطانیہ کی فوجیں مصر پر ٹڈی دل کی طرح ٹوٹ پڑیں۔

مصر کو بھی قدرتاً میدان میں کودنا پڑا۔ یہ اس کی زندگی اور موت کا سوال تھا۔ جب جنگ چھڑ گئی تو برطانیہ فرانس کے حملہ آوروں کے خلاف دنیا کے ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ تک مخالفت کا طوفان کھڑا ہو گیا۔ مظاہرے کیے گئے۔ اور جلسوں میں مصر کی حمایت اور حملہ آوروں کی مذمت کی قراردادیں منظور کی گئیں۔ عرب ممالک میں اس حملہ کا ردعمل مغربی ملکوں کے خلاف شدید نفرت اور عملی اقدامات کی صورت میں رونما ہوا۔ 31 اکتوبر کو اس حملہ کی خبر ملتے ہی اردن کی حکومت نے ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا اور عام لام بندی شروع ہو گئی، اردن نے برطانیہ و فرانس سے اس حملہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انہیں مصر کے خلاف اپنے ہوائی اڈہ کے استعمال سے روک دیا۔ 12 نومبر کو اردن کے شمال میں عراقی پٹرولیم کمپنی کی پائپ لائن بارود سے اڑا دی گئی۔ شام میں بھی یکم نومبر کو ہنگامی حالات کا اعلان کر کے رضا کاروں کی بھرتی شروع ہو گئی۔ اور اس نے برطانیہ و فرانس سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لہے اور اعلان کیا کہ شام، مصر و شام کے دفاعی معاہدہ کے ماتحت اپنی فوجیں مصری کمانڈر ان چیف کے زیرِ کمان دے رہا ہے۔ تیل کی پائپ لائن ٹوٹنے سے مغربی ملکوں کو تیل کی برآمدی معطل ہو گئی۔ سعودی عرب نے بھی 6 نومبر کو برطانیہ و فرانس سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے سعودی عرب سے بحرین تک تیل کی ترسیل روک دی۔ اور حکم جاری کیا کہ برطانیہ اور فرانس کے تیل بردار جہاز آئندہ سعودی عرب کی بندرگاہ کو استعمال نہ کر سکیں گے۔

مصر پر حملہ کے خلاف خود برطانیہ اور فرانس میں ہڑتالیں اور مظاہرے ہوئے۔ لوگوں نے خود اپنی حکومتوں کے خلاف علانیہ نفرت و ملامت کا اظہا کیا۔ برطانیہ کی نیشنل کونسل آف لیبر نے یکم نومبر کو ایک ہنگامی اجلاس میں اپنی حکومت کے خلاف ایک ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کیا۔ اس کا نعرہ تھا، "جنگ نہیں قانون!” اس نے فوراً جنگ بند کرنے اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کو اقوامِ متحدہ کے ذریعہ حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ 4 نومبر کو لندن میں ایڈن حکومت کے خلاف لیبر پارٹی کا زبردست جلسہ ہوا۔ جس میں یہی مطالبات دہرائے گئے۔ مسٹر بیون نے تقریر کرتے ہوئے کہا:
"ہم مصر سے زیادہ طاقت ور ہیں۔ اور دوسرے ملک ہم سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔ کیا ہم اپنے متعلق وہی منطق تسلیم کر سکتے ہیں جس کا اطلاق ہم مصر پر کر رہے ہیں۔ اگر ہم سے زیادہ طاقت ور قومیں ایسا بے قانونی کا رویہ اختیار کریں اور لندن پر بمباری کریں تو ہمارے پاس اس کا کیا جواب ہے۔”

مسٹر گیٹکل نے اپنی تقریر کے دوران میں کہا:
"حکومتِ برطانیہ نے جنگل کا قانون عائد کیا ہے اور روس بھی اس پر عمل پیرا ہو جائے گا۔ جنگل … ایک خطرناک جگہ ہے اور ہم کو اس امر کا احساس ہورہا ہے کہ برطانیہ و فرانس سے بھی زیادہ خطرناک جانور ادھر اُدھر پھر رہے ہیں۔”

جلسہ کے اختتام پر مظاہرین نے وزیرِ اعظم کی قیام گاہ کا رخ کیا۔ راستہ میں ہجوم کا پولیس سے تصادم ہوا۔ اور 27 مظاہرین گرفتار کر لیے گئے۔ لبرل پارٹی نے 2 نومبر کو ایڈن حکومت کے جارحانہ حملہ کی شدید مذمت کی۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں