امجد صابری کو ہم سے بچھڑے ایک سال بیت گیا -
The news is by your side.

Advertisement

امجد صابری کو ہم سے بچھڑے ایک سال بیت گیا

کراچی : معروف قوال امجد صابری شہید کو ہم سے بچھڑے ایک سال بیت گیا، ان کی یاد میں چراغ جلائے گئے اور شمعیں روشن کی گئیں۔

صوفیانہ کلام اور محبت بھر انداز امجد صابری کو گزرے ایک سال بیتا مگر یاد ابھی تک تازہ ہے، جہاں ان کی شہادت ہوئی وہاں ان کی یادمیں چراغ جلائے گئے، ان کی جائے شہادت پر لوگوں کی بڑی تعدادموجود تھی، امجدصابری کے اہل خانہ بھی جائے شہادت پر آئےاورشمعیں روشن کیں۔

معروف قوال امجد صابری کو 16 رمضان المبارک 23 جون 2016 کو لیاقت آباد نمبر 10 پر نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حکیم اللہ محسود گروپ کے ترجمان قاری سیف اللہ محسود نے امجد صابری پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

بعد ازاں 27 نومبر 2016 کو وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ نے امجد صابری قتل کیس میں دو دہشت گردوں اسحاق بوبی اور عاصم کیپری کو گرفتار کرلیا

امجد صابری کے قتل میں ملوث دہشت گردوں نے تفتیش کے دوران فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں سمیت دیگر افراد کے قتل کا بھی اعتراف کیا، دونوں دہشت گردوں کے مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔

پاپوش نگر کراچی کے قبرستان میں والد کے پہلو میں سپرد خاک امجد صابری کے اہلخانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

امجدصابری کے بھائی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی کے قاتلوں کا کیس فوجی عدالت میں چلایا جائے جبکہ امجدصابری کے بیٹے نے کہا کہ وہ اپنے والد کا چراغ بنیں گے اوران کے نقش قدم پر چلیں گے۔

امجد صابری نے والد فرید صابری کی جدائی کے بعد ان کا نام زندہ رکھنے والے کیلئے والد کی وراثت کا حق ادا کیا،اور قوالی میں نام کمایا۔ امجد صابری نے بچپن سے ہی گھر میں تصوف کو پروان چڑھتے دیکھا ۔فن قوالی میں اپنے والد سے تربیت حاصل کرتے ہوئے محض آٹھ سال کی عمر سے ہی گائیکی کا آغاز کردیا تھا۔

اللہ اور اس کے اولیا سے محبت نے امجد صابری کی آواز میں ایسی مٹھاس اور سرور بھر دیا کہ سننے والے آواز کے سحر میں کھو جاتے ہیں۔ امجد صابری نے پاکستان اور بھارت میں کئی کلام پڑھے۔انہیں اب تک کئی ایوارڈز کے ساتھ بہترین پرفارمنس کا ایوارڈ پرائڈ آف پرفارمنس بھی ملا۔

امجد صابری کہتے ہیں کہ تاجدار حرم۔ جب بھی پڑھی آنکھوں میں آنسو آئے۔یہ پڑھتے ہوئے انہیں شدت سے والد کی یاد آئی۔فن قوالی میں اپنا منفرد مقام رکھنے والے امجد صابری اپنی آواز سے دلوں میں خاص مقام رکھتے ہپں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں