اردو شاعری اور تصوف کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ابتدا سے اب تک شعراء کسی نہ کسی شکل میں مسائلِ تصوف پر غور کرتے رہے ہیں اور قدیم شعراء کے کلام پر صوفیانہ فکر کا پرتو غالب رہا ہے۔ زندگی کیا ہے، دنیا کیا ہے، خدا کیا ہے، بندے اور خدا کا کیا رشتہ ہے، فنا و بقا، بے ثباتی حیات، توکل و قناعت، جبر و اختیار، خرد و بے خودی اور معرفت کے مسائل جیسے بہت سے سوال ان کے سامنے رہے ہیں اور اپنے نظریہ کے مطابق وہ اسے پیش کرتے رہے ہیں۔ قدیم شعراء میں تو شاید ہی کوئی ایسا شاعر ہو جس کے کلام میں یہ مسائل نہ ملتے ہوں۔
تصوف کا راستہ بڑا پُر پیچ و پُر خم ہے۔ پھر اس میں بھی بہت سے نظامِ فکر ہیں۔ کوئی شریعت کے ذریعہ حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہے اور اپنے کو اس بحرِ نور میں ملا دینا چاہتا ہے، جس کا وہ خود ایک حصہ ہے۔ کوئی شریعت کو بندھن خیال کرتا ہے اور طریقت کو عرفان کا راستہ قرار دیتا ہے۔ اس شریعت و طریقت میں آگے چل کر معمولی معمولی اختلافات پر راہیں الگ ہو گئی ہیں۔
ویسے بنیادی طور پر تصوف کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی تصوف، ایرانی تصوف اور ہندوستانی تصوف۔ ہندوستانی و ایرانی نظریات، ہندوستان میں تقریباً مل گئے ہیں۔ اردو شاعری میں پائے جانے والے صوفیانہ خیالات ان تینوں اندازِ فکر کا مجموعہ ہیں۔
تصوف عام طور پر سماجی کشمکش، معاشی بدحالی، معاشرتی الجھنوں، سیاسی تصادم اور مستقبل کی غیر یقینی حالت میں پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے تصوف کو زندگی کے ٹھوس حقائق اور مسائل سے فرار کا ایک راستہ کہا گیا ہے۔ جب انسان میں جدوجہد کی طاقت نہیں رہتی، اقدار کی شکست و ریخت پر نہ اس کا قابو رہتا ہے اور نہ اپنے کو تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنے کی سکت، نہ اپنا راستہ بنانے کی قوت، نہ حالات سے مقابلہ کرنے کی توانائی، تب وہ تصوف کی پناہ گاہ تلاش کرتا ہے۔
تصوف کی ابتدا کے بارے میں حسن واصف عثمانی نے لکھا ہے کہ ’’تصوف نے عرب ماحول میں جنم لیا تھا، جب عباسی حکمرانوں کے تحت ایک طرف تو اسلامی تہذیب کا ہر شعبہ اپنے عروج پر تھا اور دوسری طرف اسلامی تہذیب کے اوّلین سانچے کو عباسی حکمراں توڑ کر تمدن افکار اور طرزِ حیات میں غیر عرب عناصر خصوصاً ایرانی تصورات اور یونانی افکار کے پیوند لگانے لگے تھے۔ اس کی وجہ سے طرزِ حیات میں وہ تبدیلیاں آرہی تھیں جنہوں نے عام مسلمانوں کی زندگی کو یکسر کھوکھلا کر دیا تھا۔ شریعت کی پابندیوں سے دور بھاگنے کا جذبہ عام تھا۔ باطن کی گہرائی، عقیدہ کی پختگی کو رسم پرستی سے بدلا جا رہا تھا۔۔۔‘‘
علامہ اقبال نے بھی تصوف کی ابتدا کے بارے میں اسی طرح کی رائے دی ہے کہ وہ ایسے موقع پر پیدا ہوتا ہے جب قوم میں طاقت و توانائی مفقود ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک خط میں لکھا ہے، ’’تصوف کی تمام شاعری مسلمانوں کے پولیٹکل انحطاط کے زمانے میں پیدا ہوئی اور ہونا بھی چاہیے تھا کہ جس قوم میں طاقت و توانائی مفقود ہو جائے جیسا کہ تاتاری یورش کے بعد مسلمانوں میں مفقود ہوگئی تو پھر اس قوم کا نقطۂ نظر بدل جایا کرتا ہے۔ ان کے نزدیک توانائی ایک حسین و جمیل شے ہو جاتی ہے اور ترکِ دنیا موجبِ تسکین۔ اس ترکِ دنیا کے پردے میں ضعیف قومیں اپنی سستی اور کاہلی اور اس شکست کو جو ان کو تنازع للبقا میں نصیب ہوتی ہے، چھپایا کرتی ہیں۔‘‘
تصوّف نے آگے چل کر عالم گیر وسعت اختیار کر لی اور فلسفہ اور الہٰیات کے مسائل نے صوفیانہ ادب کو بڑا وزن اور وقار دیا۔ ابنِ عربی کی صوفی تحریک نے ایک نیا نظریہ دیا اور یہ نظریہ عشق تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مقامِ فنا تک پہنچنے کے لیے کسی ریاضت کی نہیں بلکہ طلب کی شدت اور گرمی کی ضرورت ہوتی ہے، جو عشق سے ملتی ہے۔ جو اپنے کو عشق میں ختم کر دیتا ہے اور اپنے وجود کو مٹا دیتا ہے یعنی جو قطرہ دریا میں مل کر اپنے وجود کو فنا کر دیتا ہے وہ مقامِ بقا پا لیتا ہے۔ تصوف کی زبان میں اسی کو فنا کہا گیا ہے۔
(اردو کے معروف نقّاد اور محقق شارب ردولوی کے مضمون سے اقتباسات)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


