The news is by your side.

Advertisement

چینی کمیشن رپورٹ میں ملوث افراد کے نام سامنے آگئے

اسلام آباد : معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شوگر ملز مافیا نے ملی بھگت سے عوام سے لوٹ مار کی اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے شوگر ملز مافیا کی ملک میں لوٹ مار کی سنسنی خیز تفصیلات سے پردہ اٹھادیا، اس حوالے سے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اور وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے ذریعے صحافیوں کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔

وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد دونوں رہنماؤں نے چینی بحران کی رپورٹ پر طویل پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح شوگر مافیا کام کرتی ہے اور اس کا طریقہ واردات کیا ہوتاہے؟؟ ماضی میں شوگر اسکینڈل جیسے معاملات پر کبھی تحقیقات نہیں ہوئیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم نے چینی بحران رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کروایا، ہم نے مافیاز کو بے نقاب کرنا ہے جس نے ملک میں غریب کا خون چوسا اور ملک کو نقصان پہنچایا۔

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ کسانوں کو گنا بیچنے پر سپورٹ پرائز سے بھی انتہائی کم قیمت ادا کی جاتی ہے، اور سستا گنا خرید کر مہنگی لاگت ظاہر کی جاتی ہے۔ شوگر ملز نے کسانوں کے ساتھ زیادتی کی اور تسلسل کے ساتھ نقصان پہنچایا۔

کسان سے کٹوتی کے نام پر زیادتی کی گئی، شوگر مل مالکان15 سے30 فیصد تک گنے کی مقدار میں کم کرکے کسانوں کو نقصان پہنچاتی رہے۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ شوگر ملز نے2018-19 میں 12 اور 2019-20 میں 14 روپے زیادہ قیمت مقرر کی، ساری شوگر ملز نے دو کھاتے بنائے ہوئے ہیں، ایک کھاتا حکومت کو دوسرا سیٹھ کو دکھایا جاتا ہے، چینی کی بے نامی فروخت بھی دکھا کر ٹیکس چوری کی گئی، شوگر ملوں نے غیر قانونی طور پر کرشنگ یونٹس میں اضافہ کیا۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے اومنی گروپ کو سبسڈی دے کر بے تحاشا فائدہ پہنچایا، شہباز شریف فیملی کی شوگر ملز میں ڈبل رپورٹنگ کے شواہد ملے ہیں، العربیہ میں کچی پرچی کارواج بہت ملا ہے اور اس نے کسانوں کو40کروڑ روپے کم دیے گئے، جے ڈی ڈبلیو گروپ کی شوگر ملز کارپوریٹ فراڈ میں ملوث نکلی ہیں، جہانگیرترین گروپ کی شوگر ملز اوور انوائسنگ اور ڈبل بلنگ میں ملوث ہیں۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیشن نے چینی بحران کا ذمہ دار ریگولیٹرز کو قراردیا ہے جن کی غفلت کے باعث چینی کا بحران پیدا ہوا اور قیمت بڑھی، کین کمشنرز سے لے کر ایس ای سی پی، مسابقتی کمیشن،ایف بی آر، اسٹیٹ بنک سب نے غیر ذمہ داری دکھائی، وفاقی کابینہ نے دیگر ملوں کا بھی فرانزک آرڈر کرنے کی ہدایت دی اور ریکوری کرکے پیسے عوام کو دینے کی سفارش کی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں