اسلام آباد (22 فروری 2026): ادارہ شماریات نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 7 ماہ میں چینی کی درآمد میں 7906.15 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، رواں سال جولائی تا جنوری 17 کروڑ 46 لاکھ ڈالر سے زائد کی چینی درآمد کی گئی، اور ایک ماہ میں چینی کی درآمد میں 46.38 فیصد اضافہ ہوا، جنوری 2026 میں 23 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی چینی درآمد کی گئی۔
چینی کی درآمد میں یہ معمولی اضافہ نہیں بلکہ پالیسی یا پیداوار میں سنگین بگاڑ کی علامت ہے، پاکستان میں شوگر سیکٹر تاریخی طور پر سیاسی طور پر طاقت ور رہا ہے، لہٰذا یہ اضافہ صرف زرعی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی معیشت کا مسئلہ بھی ہے۔
ادارہ شماریات کی یہ رپورٹ بتا رہی ہے کہ پاکستان میں غذائی تحفظ کا معاملہ کمزور ہو چکا ہے اور درآمدی انحصار مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جب کہ اس پر وقتی رد عمل کے طور پر پالیسی سازی کی جاتی ہے، اور پیشگی منصوبہ بندی پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا۔
شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایک ماہ میں غذائی اشیا کی درآمدات 7.74 فیصد بڑھ گئیں، سات ماہ میں فوڈ امپورٹس میں 19.26 فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ سال اسی عرصے میں 21 لاکھ 18 ہزار ڈالر کی چینی درآمد ہوئی تھی۔
رواں مالی سال کے سات ماہ میں فوڈ امپورٹس کا حجم ساڑھے پانچ ارب ڈالر سے زائد رہا، اس عرصے میں 37 کروڑ 65 لاکھ ڈالر سے زائد کی چائے درآمد کی گئی، جولائی تا جنوری 2 ارب 35 کروڑ ڈالر سے زائد کا پام آئل درآمد کیا گیا، سات ماہ میں 11 کروڑ ڈالر سے زائد کے خشک میوہ جات درآمد کیے گئے۔
جنوری میں موبائل فون کی درآمد میں سالانہ بنیادوں پر 33.62 فیصد اضافہ ہوا، سات ماہ میں ایک ارب 14 کروڑ ڈالر سے زائد کے موبائل فون درآمد کیے گئے، اور سات ماہ میں موبائل فون کی درآمد میں 31.36 فیصد اضافہ ہوا۔
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں


