لاہور (10 مئی 2026): شوگر ملز مالکان نے حکومت سے 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگ لی ہے، جب کہ وزارتِ پیداوار کو ملک میں چینی کے موجودہ ذخائر سے متعلق اعداد و شمار بھی فراہم کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع وزارتِ پیداوار کے مطابق شوگر انڈسٹری کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک میں چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور اضافی چینی برآمد کرنے سے ایک ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع شوگر انڈسٹری کا کہنا ہے کہ اگر چینی برآمد کرنے کی اجازت نہ دی گئی تو شوگر ملز کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب وزارتِ پیداوار کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ حکومت شوگر ملز مالکان سے اس بات کی گارنٹی طلب کر رہی ہے کہ چینی کی برآمد کے باوجود ملک میں اس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق حکومت کسی واضح یقین دہانی کے بغیر چینی برآمد کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
گیس سپلائی دباؤ کا شکار؟ پاکستان نے دوبارہ اسپاٹ ایل این جی مارکیٹ کا رخ کر لیا
وزارتِ پیداوار کے ذرائع نے گزشتہ برس کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 7 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ گئی تھیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ سال چینی کی فی کلو قیمت 120 روپے سے بڑھ کر 200 روپے تک جا پہنچی تھی، جس پر حکومت اس بار محتاط حکمتِ عملی اختیار کرنا چاہتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


