لاہور: شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی درآمد کرنا کسانوں اور ملکی انڈسٹری تباہ کرنے کے مترادف قرار دے دیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق شوگر ملز ایسوسی ایشن نے مزید چینی درآمد نہ کرنے کے حکومتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چینی درآمد کرنا کسانوں اور ملکی انڈسٹری تباہ کرنے کے مترادف ہے، حکومت تین لاکھ ٹن چینی درآمد کا آرڈر دے چکی جس کی ضرورت نہ تھی۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے انڈسٹری کی اپیلوں کو یکسر نظر انداز کردیا، 18 نومبر تک ملک میں چینی کے وافر اسٹاکس موجود ہیں۔
یہ پڑھیں: چینی کی نئی قیمت مقرر، نوٹیفکیشن بھی جاری
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ شوگر انڈسٹری کو مالی بحران سے نکالن ےکے لیے اسٹاکس کا ختم ہونا ضروری ہے، سیلانی کا پانی نہ اترنے تک گنے کی کٹائی کیسے ممکن ہوپائے گی، درآمدی چینی ٹیکس اور ڈیوٹی فری سبسڈی کے ساتھ منگوائی جارہی ہے۔
شوگر ملز حکام کا کہنا ہے کہ حکومت متعدد بار ملز کا ایف بی آر پورٹل بند کرتی ہے تاکہ درآمد چینی بک سکے، حکومت سے التماس ہے کہ کسانوں اور انڈسٹری کی بہتری کا سوچ کر مثبت فیصلے کرے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


