چینی کی قیمتیں آسمان تک جا پہنچیں -
The news is by your side.

Advertisement

چینی کی قیمتیں آسمان تک جا پہنچیں

کراچی : شوگر ملز ملکان کی ہڑتال کے باعث چینی کی قیمتیں آسمان تک جا پہنچیں، مارکیٹ میں سپلائی نہ ہونے کے باعث طلب اور رسدکا توازن بگڑ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شوگرملرز کی جانب سے چینی کی سپلائی تاحال معطل ہے اور چینی کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ برقرار ہے، 10دن میں 12روپے فی کلو کا اضافہ ہوا، جس کے بعد چینی کی قیمت 65روپے فی کلو سے تجاوز کرگئی۔

ڈیلز کا کہنا ہے کہ ملز مالکان نے برآمد کے لیے سبسڈی نہ ملنے پر چینی کی فراہمی میں کمی کی، حکومت نےنوٹس نہ لیا تو چینی کی قیمت میں مزیدا ضافے کا خدشہ ہے۔

شوگر ملز ملکان نے مطالبہ کیا ہے کہ چینی کی قیمت پیداواری لاگت سے کم ہے، چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے۔

کراچی ہول سیلز گروسسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین انیس مجید کا کہنا ہے کراچی کی مارکیٹ میں چینی کی قلت  ہے جو دستیاب ہے تو اس کی قیمت زیادہ ہے، سینتالیس روپے کلو بکنے والی چینی چوون روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہورہی ہے، حکومت معاملے کے حل کے لیے شوگرملرز سے فوری مزاکرات کرے۔

کراچی میں ریٹیل سطح پر چینی کی قیمت ساٹھ روپے تک جاپہنچی ہے جبکہ لاہور میں بھی چینی کی قیمت میں چھ روپے فی کلو کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا ۔


مزید پڑھیں : چینی کی سپلائی تاحال معطل، مارکیٹ میں چینی نایاب ہوگئی


صارفین نے چینی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے کی بجائے چینی کی قیمت کو کنٹرول کریں

یاد رہے شوگر ملز مالکان نے پیداوار ی لاگت میں اضافے کو جواز بنا کر مارکیٹوں میں چینی کی فراہم بند کر دی تھی، مالکان کا کہنا ہے کہ چینی کی تیاری کی لاگت کے مقابلے میں فروخت کے نرخ بہت کم ہیں اور حکومت چینی کی ایکسپورٹ پر سبسڈی بھی نہیں دے رہی۔

شوگرملرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کہ چینی کی سپلائی کا معاملہ ایجنٹس اور ہول سیلرز کے درمیان ہے، ایسوسی ایشن کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تاہم مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگر ملز مالکان چینی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، حکومت نوٹس لے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں