The news is by your side.

Advertisement

میٹھی غذاؤں کا استعمال کتنا نقصان دہ یا فائدہ مند ہے؟

وہ میٹھی غذا جسے ہم اضافی مٹھاس کے طور پر کھاتے ہیں اس میں چینی، سویٹنرز، شہد اور پھلوں کے جوس شامل ہیں اسے کشید کرنے کے بعد صاف کرکے خوراک اور مشروبات میں ذائقہ بڑھانے کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔

پرانے دور کی نسبت میٹھے کا استعمال کم صحت مند ہے اور آج یہی میٹھا لوگوں کی صحت کا اولین دشمن بنا ہوا ہے۔ پھلوں اور گنے سے حاصل ہونے والی مٹھاس فرکٹوز کی 150 گرام یومیہ مقدار پر مشتمل خوراک انسولین کی حساسیت کو کم کر دیتی ہے۔

دوسری جانب نئی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ غذا میں شوگر یا قدرتی مٹھاس کا بھی زیادہ استعمال قوت مدافعت کمزور بنا کر متعدد بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

طبی و غذائی ماہرین کے مطابق قدرتی مٹھاس، شوگر یعنی کہ “فرکٹوز” زیادہ تر میٹھے مشروبات، میٹھے کھانوں، پروسیسڈ غذاؤں میں پایا جاتا ہے، ان غذاؤں کے زیادہ استعمال سے انسانی جسم میں موجود بیماریوں کے خلاف اور بیماریوں سے بچانے والا نظام قوت مدافعت کمزور پڑ جاتا ہے اور انسان متعدد بیماریوں میں گِھر جاتا ہے۔

لندن کے صحت عامہ سے متعلق جریدے “جرنل آف نیچر کمیونیکیشن” میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پروسیسڈ سمیت قدرتی میٹھی غذاؤں میں بھی پائے جانے والا جُز فرَکٹوز انسانی صحت کے لیے نہایت مضر ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں موٹاپے، ذیابطیس ٹائپ ٹو، جگر کے متاثر اور بڑھ جانے کے خدشات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق فرَکٹوز سے بھرپوز غذاؤں کے استعمال کے نتیجے میں جسم میں سوجن کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں، جسم کے اعضا میں سوجن یا سوزش کا ہو جانا صحت سے متعلق خطرناک علامات میں سے ایک ہے۔

محققین کے مطابق سوجن کے سبب انسانی خلیے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں انسان متعدد بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔

تحقیق کے نتیجے میں مٹھاس سے متعلق سامنے آنے والے نئے انکشاف پر طبی و غذائی ماہرین کی جانب سے انسانی صحت کے لیے میٹھے مشروبات اور پروسیسڈ غذاؤں کو سب سے زیادہ خطرناک اور مضر صحت قرار دیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں