سجاول: ہندو سے مسلمان ہونے والے نوجوان پر جبر اور دباؤ کے خلاف درخواست پر عدالت نے ڈپٹی کمشنر سجاول کو انکوائری کرکے رپورٹ 4 جون کو پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق درخواست گزار والجی میشوری کا کہنا ہے کہ میرے بھائی انیش کمار کو جبری طور پر مسلمان کیا گیا ہے، میرے بھائی نے کن حالات میں اسلام قبول کیا ہمیں اس بارے میں کچھ پتہ نہیں۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ بھائی کے اسلام قبول کرنے کے بعد کچھ لوگ ہمارے گھر میں زبردستی گھس آئے۔ گھر آنے والوں کا کہنا تھا کہ بھائی کی اہلیہ اور بیٹی کو بھی اسلام قبول کرنا ہوگا۔
درخواست گزار کے مطابق اس واقعہ کے بعد اہل خانہ سمیت ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے، خاندان کے تحفظ کیلیے26 فروری کو پولیس حکام کو درخواست بھی دی ہے۔
دوسری جانب اسلام قبول کرنے والے محمد عمر سابقہ انیش میشوری کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی مرضی سے آزادانہ طور پر اسلام قبول کیا ہے، میں عاقل و بالغ ہوں، اپنے شعور سے اسلام قبول کیا ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل حاکم شیخ کا کہنا ہے کہ شہری آزادانہ طور پر عدالت میں موجود ہے اور اسلام قبول کرنے کا اقرار کررہا ہے۔
سرکاری وکیل صداقت عباسی کے مطابق ریاست کسی کو جبری طور پر کوئی مذہب قبول کرنے یا چھوڑنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ عدالت اپنے اطمینان کیلیے انکوائری کرواسکتی ہے کہ یہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا۔
وکیل درخواست گزار جاوید احمد کے مطابق معاملے کی انکوائری کسی جوڈیشل افسر سے کروائی جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی بیٹی اور داماد کی ضمانت منظور
درخواست میں ہوم سیکرٹری سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد، ایس ایس پی سجاول اور ایس ایچ او چوہڑ جمالی کو فریق بنایا گیا ہے۔
اصغر عمر اے آر وائی نیوز سے بطور کورٹ رپورٹر وابستہ ہیں


