The news is by your side.

Advertisement

سکھر بیراج انتظامیہ نے وزیر اعلیٰ سندھ سے حقیقت چھپا لی

سکھر: اے آر وائی نیوز کی خبر کے بعد سکھر بیراج انتظامیہ حرکت میں آ گئی، ہنگامی بنیادوں پر بیراج کے بند دروازے کھولنے کا کام شروع کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سکھر بیراج انتظامیہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے حقیقت چھپائی گئی تھی، سکھر بیراج ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے بند تھا، بیراج کے 3 دروازے 2 ہفتے سے بند تھے، وزیر اعلیٰ سندھ نے بیراج کا معائنہ کیا مگر ان سے یہ بات چھپائی گئی تھی۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ سکھر بیراج کے گیٹ نمبر 2،4،16 خستہ حالی کی وجہ سے بند ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے بیراج کے اسٹرکچر کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔

ذرایع نے بتایا کہ بڑے سیلابی ریلے اس قومی ورثے کے حامل بیراج کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

سکھر بیراج کو تعمیر ہوئے اٹھاسی برس مکمل ہوگئے

واضح رہے کہ رواں سال 13 جنوری کو پاکستان کے اس سب سے بڑے نہری نظام اور فنِ تعمیر کے خوب صورت شاہ کار سکھر بیراج کو 88 برس مکمل ہو گئے ہیں، لوگ دور دراز علاقوں سے اسے دیکھنے آتے ہیں۔

سکھر شہر کی پہچان سکھر بیراج 66 دروازوں اور 7 کینالوں سمیت سب سے بڑا نہری نظام مانا جاتا ہے، یہ بیراج 13 جنوری 1932 کو تعمیر کیا گیا تھا، یہ 1923 سے 1932 کے درمیان برطانوی راج کے دوران تعمیر ہوا اور اس کا پرانا نام لایڈ بیراج (LLOYD BARRAGE) تھا۔

سکھر بیراج سندھ کی 75 فی صد اراضی سمیت بلوچستان کی کچھ زرعی اراضی کو بھی پانی کی فراہمی یقینی بناتا ہے، اسے آب پاشی اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اس بیراج کا مکمل ڈھانچا پتھر سے اتنی مہارت اور مضبوطی کے ساتھ بنایا گیا ہے کہ اس نے بڑے بڑے سیلابوں کا بھی ڈٹ کے مقابلہ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں