سکھر (14 جون 2026): سکھر بیراج کی تاریخی بحالی اور جدید کاری کا اہم مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے منصوبے کا افتتاح کر دیا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سکھر بیراج سندھ کے زرعی مستقبل کی ضمانت اور پاکستان کی غذائی سلامتی سے وابستہ ہے، انڈس اری گیشن نیٹ ورک ملکی معیشت، غذائی تحفظ اور سیلاب سے بچاؤ کیلیے انتہائی اہم ہے، اس کی جدید کاری سندھ کے آبی تحفظ اور زرعی مستقبل کیلیے سنگِ میل ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ 23 ارب 43 کروڑ روپے کا یہ منصوبہ لاکھوں آبادگار خاندانوں کے مستقبل کو محفوظ بنائے گا، اپ گریڈ شدہ سکھر بیراج سیلابی خطرات سے نمٹنے اور آبپاشی نظام کو مزید مضبوط بنائے گا، تقریباً ایک صدی بعد پہلی بار سکھر بیراج کے فرش اور اہم انفرااسٹرکچر کی جامع بحالی مکمل ہوئی، اس کے 44 گیٹس جدید ترین نظام کے تحت تبدیل کیے گئے ہیں، اس سے اب پانی کی ترسیل اور نگرانی کا نظام مزید مؤثر ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں 32 گیٹس تبدیل کرنے کا ہدف تھا وہاں 44 گیٹس تبدیل کیے گئے جو حکومت کی سنجیدگی کا ثبوت ہے، 6 لاکھ سے زائد آبادگار خاندانوں کا روزگار اور پاکستان کی غذائی سلامتی سکھر بیراج سے وابستہ ہے، جدید سکھر بیراج کئی دہائیوں تک سندھ کے زرعی شعبے کی خدمت کرتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی انجینئرز نے سکھر بیراج کے گیٹ پر کام شروع کر دیا
وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ آبپاشی کو جون 2027 تک منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سکھر بیراج منصوبہ سندھ بیراجز امپروومنٹ پراجیکٹ ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے جاری ہے، پاکستان کے سب سے بڑے آبپاشی نظام کی جدید کاری سے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کو فائدہ پہنچے گا۔
وزیر اعلیٰ کو وزیر آبپاشی جام خان شورو اور سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے منصوبے پر بریفنگ دی کہ سندھ بیراجز امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت گڈو اور سکھر بیراج کی بحالی اور جدید کاری مکمل کی جا رہی ہے، گڈو بیراج بحالی منصوبہ 9.585 ارب کی لاگت سے کامیابی سے مکمل کیا گیا، اس کے تمام 56 مرکزی اور 25 کینال ہیڈریگولیٹر گیٹس تبدیل کیے گئے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سکھر بیراج کے اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم فلور سمیت اہم ڈھانچوں کی تعمیرِنو اور بحالی کی گئی، ایک صدی بعد پہلی بار اس کے فلور اور متعلقہ ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر جدید کاری کی گئی ہے، یہ اب بڑے اور غیر معمولی سیلابی ریلوں کو محفوظ انداز میں گزارنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔
مراد علی شاہ کو بتایا گیا کہ سکھر بیراج کے تمام 44 دروازوں اور ہوسٹنگ سسٹم کی تبدیلی کا عمل مکمل ہے، اس کے تمام 44 بیزپرسول ریپیئر کا کام کامیابی سے مکمل کر لیا گیا، 94 سال پرانا سکھر بیراج سندھ کی زراعت کیلیے لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے، یہ 3.1 ملین ہیکٹر اراضی کو سیراب اور 7 نہروں کو پانی فراہم کرتا ہے۔
’تبدیل کیے جانے والے ہر نئے بیراج گیٹ کا وزن 50 ٹن ہے۔ گیٹس کی مقامی سطح پر تیاری کیلیے سکھر میں 2 خصوصی ورکشاپس قائم کی گئیں۔ منصوبے کی لوکل فیبریکیشن میں 51 مقامی عملہ اور 10 چینی ماہرین تعینات ہیں۔ مختلف تعمیراتی کنٹریکٹس کے تحت 70 فیصد مقامی افراد کو روزگار فراہم کیا گیا۔ منصوبے کے تحت ماحولیاتی اور سماجی تحفظ کیلیے 45 رکنی ماہر ٹیم سرگرم ہے۔


