The news is by your side.

Advertisement

سندھ میں پانی کی شدید کمی، سکھر بیراج پر صورت حال خوفناک

سکھر: سندھ میں پانی کی قلت خوفناک صورت حال اختیار کرگئی، سکھر بیراج میں قلت پچاس فیصد سے تجاوز کرگئی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں نہری پانی کی قلت کے باعث صورت حال خطرناک ہوتی جارہی ہے، جس کے باعث فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

انچارج کنٹرول روم سکھر بیراج نے تصدیق کی ہے کہ سکھر،گڈو اور کوٹری بیراج میں پانی کی قلت کا سامنا ہے جس کے باعث سکھراور گڈو بیراج کے کئی کینالوں کو پانی کی فراہمی متاثر ہے۔

سکھر بیراج کے انچارج کنٹرول روم کے مطابق تینوں بیراجوں کو پانی کی مجموعی طور پر 40 فیصد سے زائد کمی کا سامنا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ بالائی علاقوں میں بارشیں نہ ہونے کے سبب زرعی پانی کے ساتھ پینے کے پانی کا بحران جنم لے سکتا ہے۔

انچارج کنٹرول روم سکھر بیراج کے مطابق سکھر اور گڈو بیراج کے کئی کینالوں کو پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، کوٹری بیراج پر پانی کم پہنچنے کی وجہ سے کراچی کے لیے کینجھر جھیل اور دیگر شاخوں کو پانی کی فراہمی خطرات سے دوچار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت آبی تنازع پر بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار

ان کا کہنا ہے کہ بالائی علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع نہیں ہوتا تو مزید بحران پیدا ہوگا اگر پانی کی بحرانی صورتِ حال برقرار رہی تو سندھ میں فصلوں کو شدید نقصان ہو سکتا ہے۔

آبپاشی انتظامیہ کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے درمیان تربیلا پر پانی کی آمد60ہزار800،اخراج60ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی جبکہ کالا باغ پرپانی کی آمد77ہزار741،اخراج71 ہزار241کیوسک ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق چشمہ پرپانی کی آمد96 ہزار 423،اخراج 80 ہزارکیوسک، تونسہ پرپانی کی آمد61ہزار645،اخراج57ہزار 515 اور گڈوبیراج پر پانی کی آمداور اخراج 33ہزار462کیوسک رہی۔

اسی طرح گڈو بیراج پر پانی کی آمد اور اخراج 33ہزار462کیوسک، سکھربیراج پرپانی کی آمد27ہزار180،اخراج 8ہزار350 کیوسک او کوٹری بیراج پرپانی کی آمد4ہزار900،اخراج200کیوسک ریکارڈ کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں