سکھر (07 دسمبر 2025): ہمارے سماج میں جگہ جگہ بڑی تعداد میں ایسے بچے بھی ملتے ہیں جو خواب دیکھنے کے بھی قابل نہیں رہے ہیں، کیوں کہ معاشرے اور نظام نے ان کے ہاتھوں میں کتاب نہیں تھمائی، اور وہ زندہ رہنے کے لیے بہت کم عمری میں محنت مزدوری پر مجبور ہیں۔
انھیں دیکھ کر یہ چھبتا سوال ابھرتا ہے کہ یہ ننھے معصوم چہرے یہ بجھی ہوئی آنکھیں تعلیم سے دور کیوں ہیں؟ اس ویڈیو رپورٹ میں آپ ایسے ہی بچوں سے ملیں گے، سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جسے ان کا محافظ ہونا چاہیے تھا وہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو خاموش کھڑا ہے۔
یہ وہ بچے ہیں جن میں سے کوئی کچرا چنتا ہے، کوئی بھیک مانگتا ہے، کوئی دن بھر سبزی بیچتا یا وزن ڈھوتا ہے، تو کوئی گیراج میں لوہے کے اوزاروں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے، اسکول سے باہر ان کے لیے یہی کام ہیں۔
یہ وہ نرم اور معصوم ہاتھ ہیں جن میں آج کتاب نہیں، بستہ نہیں، بلکہ روزگار کی مجبوری تھما دی گئی ہے۔ سب سے بڑا سوالیہ نشان تو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا وجود ہے، جو بچوں کی حفاظت کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر چائلڈ لیبر روکنے کے لیے عملی قدم نہیں اٹھاتا؟ اس لیے ملک میں آج بھی لاتعداد بچے اسکول کی بجائے ورکشاپوں میں کام کر رہے ہیں۔
Sehrish Khokhar is ARY News Sukkur Correspondent


