سکھر : دہشت کی علامت سمجھا جانے والا بدنام ڈاکو سلطان شاھ بیٹے سمیت پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا، حکومت نے سلطان شاہ کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر کی تھی۔
تفصیالت کے مطابق سکھر میں اغوا، قتل، ڈکیتی اور بھتہ خوری سمیت سنگین جرائم میں ملوث بدنام ڈاکو سلطان شاہ پولیس مقابلے میں بیٹے حبدار شاہ سمیت ہلاک ہوگیا۔
پولیس نے بتایا کہ سلطان شاہ نے روہڑی میں موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کے دوران فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو زخمی کیا، جس پر پولیس نے تعاقب شروع کیا۔
تعاقب کے دوران سول اسپتال کے قریب سلطان شاہ نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس سے ایک اہلکار زخمی ہوگیا، پولیس کی جوابی کارروائی میں سلطان شاہ اور اس کا بیٹا موقع پر ہلاک ہوگئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے سلطان شاہ کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر کی تھی جبکہ 50 لاکھ روپے انعام کی سفارش کی گئی تھی۔ سلطان شاہ پر سندھ کے مختلف اضلاع میں اغوا، قتل، بھتہ خوری، منشیات اسمگلنگ اور ڈکیتی کے 48 مقدمات درج تھے۔
پولیس حکام نے کہا سلطان شاہ نے 2008 میں اس وقت کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کی موجودگی میں ہتھیار ڈال دیے تھے اور 2008 سے 2013 تک مقامی سیاست میں سرگرم رہا۔
سال 2013 کے عام انتخابات میں سکھر کی نشست سے الیکشن بھی لڑا، تاہم بعد ازاں دوبارہ جرائم کی دنیا میں واپس آگیا اور بھتہ خوری، اغوا اور قتل کی وارداتوں میں ملوث رہا۔
Sehrish Khokhar is ARY News Sukkur Correspondent


