منگل, مئی 12, 2026
اشتہار

سلطان عبد الحمید ثانیؒ نے 33 سال تک عالمی دشمنوں کو حملے سے کیسے روکے رکھا؟ مزاحمت کی داستان

اشتہار

حیرت انگیز

سلطان عبد الحمید ثانیؒ سلطنتِ عثمانیہ کے 34 ویں بادشاہ تھے جنہوں نے اپنی کامیاب حمکت عملی سے یورپ اور روس جیسے دشمنوں کو 33 سال تک ایسے الجھائے رکھا جس نے دنیا کو حیران کردیا۔

11دسمبر 1917 اسلامی تاریخ کا ایک ایسا درد ناک دن ہے جب مسلمانوں کا قبلۂ اول، بیت المقدس تقریباً 7صدیوں بعد ان کے ہاتھوں سے نکل گیا، یہ محض ایک شہر کا نقصان نہیں تھا بلکہ امتِ مسلمہ کیلئے ایک ایسا سانحہ تھا جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

masjid e aqsa

یہی وہ تحریک تھی جس کے ساتھ مسلمانوں کی سب سے بڑی ایمپائر سلطنتِ عثمانیہ ٹوٹ گئی اور زیادہ وقت نہیں گزرا خلافت کا بھی خاتمہ ہوگیا۔

تاریخی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو یہ واقعہ سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے آخری مراحل میں پیش آیا، تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سلطنت کئی دہائیوں سے کمزور تھی تو یہ سانحہ پہلے کیوں نہ ہوا؟

پھر وہ کون سی طاقت تھی وہ کون سی آہنی دیوار تھی، جس نے ان تمام سپر پاورز کو 33 سال تک روکے رکھا، امت مسلمہ کو اور بیت المقدس کو اُن دشمنوں سے بچائے رکھا؟

ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ سلطان عبد الحمید ثانیؒ کی حکمت عملی اور غیر معمولی قیادت تھی، جنہوں نے تقریباً 33 برس تک یورپی طاقتوں کو سلطنتِ عثمانیہ پر مکمل قبضہ کرنے سے روکے رکھا۔

محلاتی سازشیں 

سال 1876 عثمانی تاریخ کا سب سے خونی اور خطرناک سال تھا یہ وہ وقت تھا جب محل سازشوں کا گڑھ بن چکے تھے، طاقتور وزیر خود کو سلطنت کا اصل مالک سمجھتے تھے اور بادشاہوں کو کٹھ پتلیوں کی طرح نچا رہے تھے۔

بادشاہوں کی حیثیت بھی اُن سازشیوں کے سامنے کچھ بھی نہ تھی؟ سب سے پہلے عبدالحمید کے چچا سلطان عبدالعزیز کو ایک سازش کرکے تخت سے اتارا گیا اور صرف چار دن بعد وہ پراسرار طور پر اس طرح مردہ پائے گئے کہ اُن کی کلائیاں کٹی ہوئی تھیں، کہا گیا کہ انہوں نے خودکشی کرلی ہے لیکن سب جانتے تھے کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل تھا۔

sultan

اُن کے بعد عبدالحمید کے بڑے بھائی سلطان مراد پنجم کو تخت پر بٹھایا گیا لیکن اپنے چچا کا بھیانک انجام اور محل کے اندر سازشوں کا ڈر اُن کے دماغ پر اتنا سوار تھا کہ ان کا ذہنی توازن ہی بگڑ گیا۔ صرف 93 دن میں انہیں پاگل قرار دے کر تخت سے اتار دیا گیا، پھر اس تخت پر بیٹھنے کے لیے درباری وزیروں نے ایک اور چال چلی، 34 سال کے اُس شہزادے کو چن لیا، جوزیادہ ترخاموش رہتا تھا۔

یہ وہی عبد الحمید ثانیؒ تھے جو 31 اگست 1876 کو سلطنتِ عثمانیہ کے 34ویں سلطان بنے! وزیر تو سمجھ رہے تھے کہ یہ کمزور اور خاموش نوجوان وہی کرے گا، جو وہ چاہیں گے، وہ کٹھ پتلی کی طرح ان کی انگلیوں پر ناچے گا لیکن انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ عبد الحمید کا دماغ صرف دربار میں ہی نہیں، یورپ کے بڑے بڑے بادشاہوں سے بھی زیادہ تیز ہے۔!

1876میں تخت سنبھالنے والے سلطان عبد الحمید ثانیؒ کو ایک ایسی سلطنت ملی جو مالی بحران اور بیرونی خطرات کا بری طرح سے شکار تھی۔ روس، برطانیہ اور فرانس جیسی بڑی طاقتیں سلطنت کو تقسیم کرنے کے درپے تھیں جبکہ اندرونی طور پر قوم پرستی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں۔

روسی ایمپائر کا عثمانی سلطنت پر حملہ 

تخت پر بیٹھے ابھی کچھ مہینے ہی گزرے تھے کہ 1877 میں روسی ایمپائر نے عثمانی سلطنت پر ایک بار پھر حملہ کردیا، سلطان کو امید تھی کہ مغرب کی طاقتیں، خصوصاً برطانیہ اُن کی مدد کو آئے گا، لیکن ایسا نہ ہوا۔

یہ نئے سلطان کی پہلی اور شاید آخری غلطی تھی، یورپ کا بیمار بالکل اکیلا تھا، روسی افواج استنبول کے دروازے پر پہنچ چکی تھیں تخت لرز رہا تھا، دارالخلافہ ختم ہونے کے قریب تھا، یہاں تک کہ مارچ 1878میں نوجوان سلطان کو ایک ذلت آمیز ’سان سٹیفانو معاہدہ‘ کرنا پڑا۔

Treaty Of san stefano

یورپ میں سلطنت کا ایک تہائی علاقہ ہاتھ سے نکل گیا، سربیا، رومانیہ، مونٹی نیگرو سب آزاد ہوگئے اور وہ برطانیہ جس سے مدد کی امید تھی، اس نے قبرص کی حفاظت کے نام پر اس پر قبضہ کرلیا۔

سلطان کی سیاسی چالوں پر یورپ بھی حیران

یورپ کی ہر پاور سلطنت عثمانیہ کی لاش سے اپنا حصہ نوچنے میں لگی ہوئی تھی اور سلطان اکیلے، بے بس اپنے ہی محل میں بیٹھ کر یہ سب دیکھنے پر مجبور تھے اور پھر انہوں نے بہت بڑا فیصلہ کرلیا، اس شکست کے بعد ان میں ایک نیا سلطان پیدا ہوا، انہوں نے جان لیا تھا کہ سلطنت کو بچانا ہے تو ایسا ڈپلومیسی کی میز پر ہی ہو سکتا ہے، جنگ کے میدان میں وہ کچھ نہیں کرسکتے۔

اس کے بعد سلطان نے عالمی سیاست کے میدان میں وہ چالیں چلیں کہ یورپ بھی حیران رہ گیا، انہوں نے ایک نئی فارن پالیسی بنائی، ایک سادہ لیکن مہلک اصول کے ساتھ اور وہ تھا تقسیم کرو اور زندہ رہو یعنی دشمنوں کو آپس میں تقسیم کرو اور یوں اپنے آپ کو بچالو۔

ان مشکل حالات میں سلطان نے روایتی جنگ کے بجائے سفارتی محاذ پر حکمت عملی اپناتے ہوئے یورپی طاقتوں کے باہمی اختلافات کو اپنے حق میں استعمال کرنا شروع کیا اور اسی پالیسی کے تحت دشمنوں کو ایک دوسرے کے خلاف مصروف رکھا، جرمنی کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنا اور برلن، بغداد ریلوے جیسے منصوبے بھی اسی حکمت عملی کا حصہ تھے۔

 اسلام کا فروغ اور حجاز ریلوے منصوبہ

سلطان عبد الحمید نے نہ صرف خارجہ محاذ پر کامیابی حاصل کی بلکہ داخلی سطح پر بھی “پین اسلام ازم” کو فروغ دیا، جس کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے خلافت کے تصور کو مضبوط کیا اور خود کو پوری مسلم دنیا کا روحانی رہنما بنا کر پیش کیا۔

حجاز ریلوے منصوبہ اسی سوچ کی عملی مثال تھا، جسے دنیا بھر کے مسلمانوں کے مالی تعاون سے مکمل کیا گیا۔ اس منصوبے نے نہ صرف مقدس مقامات کو جوڑا بلکہ امت کے اتحاد کی علامت بھی بن گیا۔

Train hijaz

انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک ہندوستان سے لے کر سینٹرل ایشیا تک پوری دنیا کے مسلمانوں نے اتنی بھاری مالیت کے چندے دیے کہ حجاز ریلوے منصوبہ بالآخر مکمل ہوگیا۔

حجاز ریلوے صرف ایک ریلوے لائن نہیں تھی یہ پوری امت کے اتحاد کی علامت تھی، اس بات کا زندہ ثبوت تھا کہ جب بھی خلیفہ پکارے گا دنیا بھر کے مسلمان لبیک کہیں گے۔

تاہم بیسویں صدی کے آغاز میں عالمی سیاسی حالات تیزی سے بدلنے لگے، اندرونی اختلافات، بیرونی سازشیں اور “ینگ ترک” تحریک جیسے عوامل نے سلطنت کی بنیادیں کافی حد تک کمزور کردیں۔

بالآخر پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کو شدید نقصان اٹھانا پڑا اور 1917 میں بیت المقدس بھی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔

یہ واقعہ نہ صرف سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کی علامت بنا بلکہ خلافت کے زوال کی راہ بھی ہموار کر گیا۔ تاریخ کے اس باب سے یہ سبق ملتا ہے کہ مضبوط قیادت، اتحاد اور حکمت عملی کسی بھی قوم کی بقا کیلئے ناگزیر عناصر ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں