The news is by your side.

منگولوں کو جنگِ عین جالوت میں‌ بدترین شکست دینے والے سلطان بیبرس کا تذکرہ

تاریخ کے کئی واقعات ایسے ہیں‌ جن کے بعد دنیا کی عظیم سلطنتوں کا نقشہ بدل گیا اور کئی تخت الٹ گئے۔ ان واقعات نے یکایک تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ جنگِ عین جالوت انہی میں سے ایک ہے جس میں طاقت اور فتوحات کے نشے میں دھت منگولوں نے رکن الدّین بیبرس کے ہاتھوں بدترین شکست کھائی اور مسلمانوں کی خلافت اور ہاتھ سے جاتے ہوئے کئی علاقے محفوظ ہوگئے۔

جنگِ عین جالوت 1260ء میں مملوک افواج اور منگولوں کے درمیان لڑی گئی تھی جس میں مملوک شاہ سیف الدّین قطز اور اس کے مشہور جرنیل رکن الدّین بیبرس کو کام یابی ملی اور یہ فتح دراصل عالمِ اسلام کی فتح تھی۔ یہ جنگ فلسطین کے مقام عین جالوت پر لڑی گئی۔ اس فتح کے نتیجے میں مصر، شام اور یورپ کے کئی علاقے بھی منگولوں کے ہاتھوں بربادی سے بچ گئے۔ جنگ میں ایل خانی حکومت کے منگول بانی ہلاکو خان کا مشہور سپہ سالار کتبغا مارا گیا۔ یہی نہیں‌ بلکہ اس جنگ نے منگولوں کی طاقت کا غرور اور ان کی فتوحات کا طلسم بھی توڑ کر رکھ دیا۔ بیبرس کو اسی جنگ نے مسلمانوں‌ کا ہیرو بنایا، لیکن اس سپہ سالار کا کارنامہ شام کے ساحل پر قابض یورپی حکومتوں کا زور توڑنا اور صلیبی لشکر کو شکست سے دوچار کرنا بھی ہے۔

1277 میں آج ہی کے دن بیبرس کا انتقال ہوگیا تھا۔ اس عظیم سپہ سالار نے معرکۂ عین جالوت میں‌ فتح کے بعد میں مصر و شام کا تخت سنبھالا تھا۔ بیبرس کے حالاتِ زندگی اور کئی واقعات محققین کی نظروں سے اوجھل رہے ہیں یا ان میں‌ اختلاف ہے، لیکن دست یاب معلومات کے مطابق 1223 میں اس نے خوارزم شاہ کے ایک درباری کے گھر آنکھ کھولی تھی۔ اس کا نام البند قداری تھا اور وہ رکن الدّین بیبرس مشہور ہوا۔ وقت کی گردش نے اسے غلام بنا کر مختلف ہاتھوں میں فروخت کے بعد مصر کے بازار تک پہنچایا۔ وہ ایک غلام کے طور پر یہاں ایک نیک خصلت خاتون کے گھر آگیا۔ خاتون نے اپنے مرحوم بیٹے کے نام پر اسے بیبرس پکارنا شروع کردیا اور اپنا بیٹا بنا لیا۔ اسی عورت کا ایک بھائی مصر کے سلطان کے دربار سے منسلک تھا جو غلام بیبرس کو اپنے ساتھ دربار میں لے گیا اور کسی طرح اسے سلطان کی کفالت نصیب ہوگئی۔ وہاں اسے رہائش اور کھانا پینا ہی نہیں‌ بہترین تربیت اور اس زمانے کے رائج ہنر اور حربی علوم بھی سکھائے گئے۔ بیبرس نے اپنی ذہانت اور لگن سے خود کو بہترین سپاہی اور بعد میں‌ فوج کی قیادت کا اہل بھی ثابت کیا۔

مؤرخین کے مطابق وہ مصری افواج کے ان کمان داروں میں سے ایک تھا جس نے فرانس کے بادشاہ لوئس نہم کو ساتویں صلیبی جنگ میں شکست دی۔ بعد میں بیبرس مملوک سلطنت کا ایک نام ور حکم ران بنا اور 1260ء سے 1277ء تک مصر اور شام پر حکومت کی۔ وہ ہلاکو خان اور دہلی کے غیاث الدّین بلبن کا ہمعصر تھا۔ وہ نسلاً ایک قپچاق ترک تھا جسے غلام بنا کر فروخت کر دیا گیا تھا۔

جنگ عین جالوت اسی سپہ سالار کا وہ کارنامہ ہے جس پر عالمِ اسلام میں آج بھی وہ بیبرس کے نام سے زندہ ہے۔ یوں تو منگول ایک عرصے سے قتل و غارت گری اور اقوام کو زیر کرنے کے لیے جنگیں کررہے تھے لیکن یہ تیرہویں صدی عیسوی کے وسط کی بات ہے جب منگول وسطی ایشیا سے نکل کر چاروں طرف پھیل گئے تھے اور ہر طرف ان کی قتل و غارت گری جاری تھی۔ ہلاکو خان اپنے لشکر کے ساتھ عراق، شام، فلسطین کے شہروں کو فتح کر کے مصر پر حملہ آور ہوا تو یہ کہا جانے لگا کہ منگول اگر اس علاقے پر قابض ہوگئے تو پھر انھیں حجاز کی مقدس سرزمین کی جانب بڑھنے سے روکنا مشکل ہو گا۔

اس پر سلطان مصر سیف الدین قطز اور رکن الدین بیبرس کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا کہ وہ فوج کے ساتھ منگولوں کا مقابلہ کرے اور مسلمانوں کی فتح کے بعد شام میں حلب اور اس کے اطراف کے علاقے بیبرس کے تصرف میں دے دیے جائیں گے۔ بغداد کو تباہ کرنے کے بعد جب ہلاکو کی فوجیں شام کی طرف بڑھیں تو بیبرس اور مملوک سردار سیف الدین قطز نے مل کر 1260ء میں عین جالوت کے مقام پر ان کو فیصلہ کن شکست دی اور شام سے منگول فوجوں کو نکال باہر کیا۔

عین جالوت کی جنگ میں تاتاریوں کی شکست کی خبر شام اور فلسطین اور دنیا بھر میں منگول مقبوضات میں پھیل گئی جس نے مسلمانوں کو حوصلہ دیا اور وہ منگول حاکموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور تاتاریوں کا مقابلہ کر کے اپنے شہر واپس لینے شروع کر دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے شام اور فلسطین کے اکثر مقبوضات منگول تسلط سے آزاد ہوگئے۔ یوں عین جالوت کے میدان میں‌ رکن الدّین بیبرس نے گویا منگول آندھی کو ہمیشہ کے لیے زمین کی گہرائیوں‌ میں قید کردیا۔

بعد میں سیف الدین قطز اپنے وعدے یا اس معاہدے سے مکر گیا جو اس نے بیبرس کے ساتھ جنگ سے قبل کیا تھا اور اس طرح ان کے درمیان رنجش پیدا ہوگئی اور معرکۂ عین جالوت کے چند دنوں بعد پُراسرار طور پر سلطان قطز کا قتل ہوگیا۔ اس وقت چوں کہ رکن الدّین بیبرس وہاں کے مسلمانوں کی نظر میں‌ دلیر اور ہیرو تھا، اس لیے امرا نے متفقہ طور پر اسے سلطانِ مصر تسلیم کر لیا۔

ایک انگریز مصنّف ہیریلڈیم نے لکھا ہے کہ بیبرس متعدد زبانیں‌ جانتا تھا اور بعض‌ مؤرخین کے مطابق وہ بھیس بدل کر فوج اور عوام کے انتظامات اور حالات پر نظر رکھتا تھا۔

عالمِ اسلام کے اس عظیم سپاہی کو دمشق کے المکتبۃُ الظّاہریہ میں‌ دفن کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں