The news is by your side.

Advertisement

سلطان غیاث الدّین پر قتل کا الزام، قاضیٔ شہر نے کیا سزا سنائی؟

سلطان غیاث الدّین کا دور حکم رانی (1366 تا 1377) بنگال کی مسلم سلطنت کا سنہری دور تھا۔ سلطنت میں ہر طرح امن و امان اور خوش حالی کا دور دورہ تھا۔ سلطان غیاث الدین اعلیٰ پایہ کا منتظم، عالم با عمل، زاہدِ بے ریا اور جود و سخا کا پیکر تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سلطان دفاعِ سلطنت سے ہرگز غافل نہ تھا۔ موقع بہ موقع جنگی مشقوں کا انعقاد بھی سلطان کے طریقِ جہاں بانی میں شامل تھا۔

ایک دن تیز اندازی کی مشق ہو رہی تھی۔ سلطان نے بھی نشانہ باندھ کر کئی تیر چھوڑے، ناگاہ ایک تیر کا نشانہ خطا ہو گیا اور یہ تربیتی احاطے سے باہر جا گرا۔ اتفاق سے یہ تیر ایک غریب عورت کے بچّے کو لگا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ سلطان کو اس حادثے کی خبر نہ ہوئی اور مشق مکمل ہونے کے بعد تھکا ماندہ اپنے عملے کے ساتھ قصرِ شاہی کی طرف کوچ کر گیا۔

قاضیٔ شہر قاضی سراج الدین دن بھر کے عدالتی کام کاج کو سمیٹ کر اٹھنے ہی والے تھے کہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک کم زور خاتون حاضر ہو گئی اور قاضی صاحب سے فریاد کی کہ ’’قاضی صاحب، میں ایک بیوہ ہوں، بادشاہ کے تیر سے میرا لختِ جگر ابدی نیند سوگیا، ازروئے قانونِ شریعت میری داد رسی کیجیے۔‘‘

قاضی صاحب کچھ دیر کسی سوچ میں پڑ گئے اور پھر ایک درہ مسندِ قضا کے نیچے چھپا کر رکھ دیا۔ جوابِ دعویٰ کے ساتھ حاضر ہونے کے لیے سلطان کے نام سمن جاری کر دیا۔ عدالت کے حکم کی تعمیل کرانے کے لیے ایک پیادے کو روانہ کر دیا۔

پیادہ قصرِ شاہی کی حدود میں داخل ہوا تو اس کو اندازہ ہوا کہ بے پناہ مصروفیت کے باعث اس وقت بادشاہ تک رسائی آسان نہیں ہے۔ پیادے نے بلند آواز سے اذان دینی شروع کر دی۔ بے وقت اذان سن کر بادشاہ نے مؤذن کو دربار میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ مؤذن کو حاضر کیا گیا تو بادشاہ نے بے وقت اذان کی وجہ دریافت کی۔ پیادے نے عدالت کا پروانہ پیش کر دیا اور کہا۔ ’’مجھے سلطان کو محکمہ عدلیہ میں حاضر کرنے کا حکم ملا ہے۔ مجھے اندازہ ہوا کہ قصرِ شاہی کا عملہ اس وقت سلطان تک رسائی نہ دے گا، اس لیے یہ حیلہ اختیار کیا۔

سلطان فوراً اٹھا ایک چھوٹی سی تلوار بغل میں چھپا کر عدالت کی طرف چل پڑا۔ قاضی سراج الدین کے سامنے پیش ہوا، قاضی صاحب نے تعظیم تو کجا سلطان کی طرف التفات تک نہ کیا۔ جیسے کہ اس کو جانتے ہی نہ تھے۔ فریقین کے بیان لیے اور فیصلہ صادر کیا۔ سلطان غیاث الدین پر قتل کا جرم ثابت ہو گیا، ازروئے قانونِ شریعت سلطان کو قصاص میں قتل کرنے کی سزا سنائی جاتی ہے۔ البتہ سلطان کو موت و زیست کا فیصلہ مستغثہ کی مرضی پر منحصر ہے۔ سلطان غیاث الدین نے ملزموں کے کٹہرے میں اپنے خلاف سنائی گئی سزائے موت کو سر جھکائے تسلیم کیا۔

یہ منظر دیدنی تھا، سلطان ایک لاچار ملزم کی حیثیت سے محکمہ عدلیہ میں اس پرندے کی طرح بے یار و مددگار تھا جسے ذبح کرنے کی غرض سے کسی پنجرے میں بند کر دیا گیا ہو۔ مستغثہ ممتا کی ٹیس کی وجہ سے سلطان پر خشمگیں نظریں گاڑی ہوئی تھی۔ سب کو لگا کہ سلطان اب تھوڑی دیر کا مہمان ہے اور جرم کی پاداش میں اس پر حدِ شرعی لاگو ہونے والی ہے۔

اِدھر قاضی صاحب فیصلہ سنانے کے بعد اس انتظار میں تھے کہ اگر فریقین کے بیچ شریعت میں دی گئی رعایت کے پیشِ نظر کوئی سمجھوتا ہوتا ہے تو ٹھیک، نہیں تو سورج ڈوبنے سے پہلے سلطان کو جلاد کے حوالے کر دیا جائے۔ سلطان کی لاچاری اور کس مپرسی کو دیکھ کر یکایک خاتون کا دل بھر آیا اور اس نے خون بہا کے عوض سلطان کو موت کے بے رحم شکنجے سے چھڑانے کا فیصلہ کیا۔

قاضی صاحب کو اطلاع دی گئی کہ مستغثہ سلطان کی جان بخشی کے لیے تیار ہو گئی ہے۔ قاضی صاحب نے مستغثہ سے پوچھا’’ کیا تو راضی ہو گئی؟‘‘ جواب ملا ’’سلطان کی لاچاری دیکھ کر میں نے اس کی جان بخشی کا فیصلہ کر لیا۔‘‘پھر دریافت کیا، ’’کیا اس عدالت سے تُو نے داد پائی۔‘‘ مستغثہ نے جواب دیا، ’’قاضی صاحب میں نے آپ کی عدالت سے بھر پور داد پائی۔‘‘ مقدمے سے فراغت کے بعد قاضی سراج الدین نے خندہ پیشانی سے سلطان کی تعظیم کی اور اس کو مسند پر بٹھایا۔

سلطان نے بغل میں چھپائی ہوئی تلوار نکالی اور بولا، ’’قاضی صاحب میں شریعت کی پابندی کی خاطر آپ کے پاس حاضر ہوا۔ اگر آپ قانونِ شریعت کی سرمو خلاف ورزی کرتے تو اس تلوار سے آپ کی گردن اُڑا دیتا۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ نے منصبِ قضا کا پورا حق ادا کر دیا۔‘‘ قاضی سراج الدین نے مسند کے نیچے چھپایا ہوا دُرہ نکالا اور فرمایا، ’’اے سلطان! اگر آج آپ شریعت کی حد سے ذرا بھی تجاوز کرتے تو اس دُرے سے آپ کی کھال اُتار دیتا، آج ہم دونوں کے امتحان کا دن تھا۔‘‘

(شیخ علی محمد کے تالیف کردہ تاریخی مضامین سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں