The news is by your side.

Advertisement

نابینا لڑکی

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو یہ حقیقت جاننے کے بعد بھی کہ وہ لڑکی نابینا ہے اس سے شادی کرتا ہے جو اس کے باپ کے دوست کی بیٹی ہے۔

اس لڑکی کی پہلی بارات آئی تھی تو لڑکے والوں کی جانب سے لڑکی پر بہتان لگاتے ہوئے اسے لوٹا دیا گیا تھا۔ اس شخص نے بھی ان باتوں کو سچ جانا تھا اور نابینا لڑکی کے باپ سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تھا۔ مگر ایک رات اس نے سرگوشی کی وہ آواز سنی جس پر وہ اس نابینا اور بہتان لگائی گئی لڑکی سے شادی کرنے پر مجبور ہوگیا۔ کہانی پڑھیے۔

میرے گھر کے برابر دیوار بیچ، ایک قاضی صاحب کا مکان تھا۔

بیچارے ایک زمانے میں بڑے متمول آدمی تھے، مگر ریاست کی زندگی خصوصاً ملازمت انقلاب کی تصویر ہوا کرتی ہے۔ ذرا راجہ صاحب کے کان بھرے اور بے قصور پر آفت برپا ہوگئی۔ اسی طرح ان شریف قاضی صاحب کے تموّل نے افلاس کا پہلو بدلا، اور فقط پچاس ساٹھ روپیہ ماہوار کی قلیل رقم بہ ہزار دقت بچ بچا کر رہ گئی۔ اسی پر صبر شکر کے ساتھ قانع تھے اور اپنا اور اپنی بیوی کا پیٹ پالتے تھے۔

عربی اور فارسی کی قابلیت کے لحاظ سے دور دور تک ان کا شہرہ تھا، اور باہر سے اکثر اشخاص مشکل سے مشکل مسئلے حل کرانے آتے تھے۔

قاضی صاحب کی صاحب زادی کی شادی کی تقریب جب ہوئی تو نکاح میں مجھے بھی مدعو کیا گیا مگر چند دو چند ضروریات کی وجہ سے میں شامل نہ ہو سکا۔ مگر ہمسایہ تھا، واقعات کی خبر برابر مل گئی۔ معلوم ہوا کہ دولھا کو پہلے سے اس لڑکی کی نسبت جس سے اب اس کی قسمت وابستہ ہونے والی تھی کچھ بھی معلوم نہ تھا، اور عین نکاح کے وقت نامعلوم کس بات کے علم پر اس نئی روشنی کے شیدا نے شادی سے قطعی انکار کر دیا۔ طرفین کی بڑی بدنامی ہوئی۔ اور آخر کار بارات واپس آگئی۔

اس کے بعد خود دولھا سے میری راہ و رسم ہو گئی اور اس کی وجہ اس نے غریب لڑکی کی بدچلنی بیان کی۔ یہ سن کر میرے خیالات بھی قاضی صاحب کی طرف سے خراب ہونے لگے، اور میں نے ان سے ملنا جلنا کم کر دیا۔ راستہ میں بھی ان سے کترا کر نکل جاتا۔ وہ دراصل مجھ سے محبت کرتے اور میرے والد بزرگوار کے بڑے سچّے دوست تھے۔

اسی طرح چھ مہینے گزر گئے، اب گرمی کا موسم آ پہنچا۔ میری والدہ ضعیفہ تو صحن میں سویا کرتی تھیں۔ مگر میں اکیلا چھت پر لیٹا کرتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے خوب یاد ہے جمعہ کا دن تھا۔ چلچلاتی گرمی تھی۔ پہر بھر دن سے ہوا بند تھی، دونوں وقت ملتے ہی مارا مارا کرکے میں نے کھانا کھایا اور سیدھا کوٹھے پر جا پڑا۔ چاروں طرف اجلی چاندنی چٹکی ہوئی تھی اور تارے اکا دکا نظر آتے تھے۔ دو تین گھنٹے یوں ہی کروٹیں بدلتے اور ہاتھ پاؤں مارتے کٹے۔ خداخدا کر کے 11 بجے ہوا ذرا سرسرائی اور کچھ جان میں جان آئی۔

نیند کی غنودگی میں یکایک مجھے یہ معلوم ہوا کہ کوئی میرے سرہانے بول رہا ہے۔ میں فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھا۔ مگر آدمی تو آدمی پرچھائیں تک دکھائی نہ دی۔ اتنے میں ہوا کے جھونکے کے ساتھ ایک درد بھری آواز قاضی صاحب کی چھت سے آئی۔

’’خدا جانے کیونکر بدنامی ہوتی ہے۔ مگر خیر ربُّ العالمین خوب جانتا ہے، مجھے کسی سے غرض ہی کیا! پاک پروردگار!! میں نہیں چاہتی کہ میری شادی ہو۔ مجھ دکھیاری اندھی کو کون قبول کرے گا؟ مگر ہاں یہ ضرور ہے کہ میں پاک ہوں اور باعصمت ہوں۔ آپ سے میں یہ چاہتی ہوں کہ میری بدنامی نہ ہو، اور برا کہنے والوں کا منہ تو بند کر دے۔‘‘ ان درد بھرے جملوں کے بعد پھر کوئی آواز قطعی نہ آئی۔

یہ الفاظ میرے چوٹ کھائے ہوئے دل کے ساتھ نمک کا کام کررہے تھے، اور میری ساری رات آنکھوں میں کٹی۔ صبح ہوتے ہی میں جناب والد صاحب کی اجازت پر ایک دوست کے ذریعے سے پیغام بھیجا اور قاضی صاحب کی غلامی میں اپنے آپ کو دینا چاہا۔ مگر ان سچّے اور پاک باز انسان نے اس کے جواب میں آب دیدہ ہو کر کہا کہ ’’ان سے کہہ دینا، ابھی صاحب زادہ ہو، نا تجربہ کار ہو۔ کیوں اپنی زندگی تلخ کرتے ہو۔ وہ بدنصیب لڑکی اندھی ہے۔ میں تمہارے والد کا نیاز مند ہوں۔ قیامت کے دن انھیں کیا منہ دکھاؤں گا؟‘‘

بمشکل تمام میں نے قاضی صاحب کو کئی دنوں میں مجبور کر لیا، اور اس مصیبت زدہ نابینا لڑکی سے چپ چپاتے شادی کر لی۔ اب وہ میرے گھر میں آئی اور میری بیوی بن کر رہنے لگی۔ اس کی خصائل کی نسبت میں بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ صبر، قناعت، سچائی، ہمدردی، محبت اور پاک بازی کی مجسم تصویر تھی۔ اکثر اوقات پچھلی رات کبھی میری آنکھ کھل جاتی۔ تو میں ایک عجیب مؤثر نظارہ دیکھتا۔ وہ پلنگ پر لیٹے لیٹے نہایت عاجزی کے ساتھ دعا میں مشغول ہوتی اور ہزار ہزار طرح سے پہروں میری ترقّی، آرام اور آسائش کے لیے دعائیں مانگتی حتّٰی الامکان میں اس کی خوشی کا خیال از حد رکھتا۔ جب تک میری والدہ ضعیفہ زندہ تھیں۔ میری نابینا بیوی کو میرے حاضر و غائب میں کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچی، مگر انھوں نے بھی ایک دن اس دارِ فانی کو الوداع کہا اور ان کے صدمے نے میری ہمت پست کردی۔

اب گھر میں صرف ایک خادمہ تھی اور ڈیوڑھی پر ایک نوکر۔ والدہ صاحبہ کی آنکھیں بند ہوتے ہی خادمہ نے اسے تکلیف پہنچانی شروع کی، مگرمیں سچ عرض کرتا ہوں، کبھی بھول کر بھی اس نے خادمہ کی شکایت مجھ سے نہیں کی، اور مجھے قطعی اس بات کی اطلاع نہیں ہوئی۔

ایک روز اتفاقیہ خلافِ معمول دوپہر کو گھر میں واپس آیا۔ جب کہ میری بیوی کھانا کھا رہی تھی اور خادمہ دسترخوان کے پاس بیٹھی تھی۔ سالن وغیرہ دیکھ کر میری آنکھوں میں خون اتر آیا، اور اس ماما کو برا بھلا کہنے لگا کیوں کہ پورے خرچ پر بھی کھانا بہت خراب تھا، اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ مجھے اچھا کھلاتی تھی اور میری غریب نابینا بیوی کے سامنے روکھی سوکھی روٹیاں اور بچا کھچا سالن رکھ دیتی تھی اور باقی سب اچھا اچھا تیر کر جاتی تھی۔

اسی دن سے میں صبح کو جب تک میری قابلِ رحم بیوی ضروریات اور نماز سے فارغ نہ ہو لیتی تھی، باہر نہ جاتا، اور دوپہر سے پہلے واپس آکر کھانا اسی کے ساتھ کھاتا۔ پھر شام سے ہی گھر میں آپڑتا اور تمام رات کہیں نہ نکلتا۔ اس کی سچّی محبت اور راست بازی نے اس قدر میرے دل میں گھرکر لیا تھا کہ اکثر ماما کے نہ ہونے پر میں خود کام کرتا۔ اس کے لیے وضو وغیرہ کے لیے پانی لانے میں مجھے عار نہ تھا۔ اس طرح گھر میں گھسے رہنے کی وجہ دوست احباب مجھ پر فقرے کسنے لگے اور میرے ہم عمر میرا مذاق اڑانے لگے۔ مگر میں نے پروا نہ کی اور میرے معمول میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا۔

اسی اثنا میں ان نئی روشنی کے نوجوان کی جس نے میری نابینا بیوی پر جھوٹا الزام لگایا تھا، بڑی دھوم دھام سے شادی ایک متمول لڑکی سے ہو گئی۔ مشکل سے ایک برس گزارا ہوگا کہ شکر رنجی ہوئی اور بڑھتے بڑھتے خانہ جنگیوں کی نوبت آئی۔ تمام شہر میں افواہ پھیل گئی کہ ان کی بیوی آوارہ ہے۔ انھوں نے اس کو نکال دیا۔ اس نے میکے پہنچتے ہی نان نفقہ اور مہر کی نالش ٹھوک دی، اور نئی روشنی کے نوجوان کو چھٹی کا کھایا ہوا یاد آگیا۔ غرض خوب عرضی پرچہ ہوتا رہا۔ ان پر بیوی کی ڈگری ہوگئی۔ اب انھوں نے خاندان کے بزرگوں کے سامنے منت سماجت کی اور صلح ہو گئی۔ ان کی بیوی گھر میں آگئی۔ مگر تھوڑے عرصے کے بعد پھر وہی تکا فضیحتی شروع ہوگئی۔ بہرحال ڈگری کے خوف سے وہ غصہ دباتے اور بیوی کی جوتیاں کھاتے رہتے۔

اس دارِ ناپا ئیدار کے قانون کے موافق مجھ بدنصیب پر ایک اور مصیبت آئی۔ میری نابینا بیوی کو بخار آنے لگا، میں نے ڈاکٹر، حکیم، ملاّ، سیانے، دوا، ٹھنڈائی، گنڈا غرض کچھ نہ چھوڑا۔ مگر بخار میں کمی نہ ہونی تھی نہ ہوئی۔

میں نے بالکل ہر جگہ کا آنا جانا چھوڑ دیا۔ وہ برابر چھ مہینے تک بیمار رہی۔ میں نے ہر قسم کی خدمت کی۔ یہاں تک کہ چوکی پر لے جانا۔ دوائی پلانا وغیرہ میرا روزانہ معمول تھا۔ کئی بار میرے اگال دان اٹھاتے ہی ابکائی آئی، اور جونہی میں نے اگال دان سامنے کیا اس نے ڈالنا شروع کیا جس سے میرے ہاتھ بھی بھر گئے۔ اگرچہ میں شہر میں نازک مزاج مشہور ہوں۔ لیکن بخدا کبھی مجھے ایسی کراہت نہیں آئی کہ محبت پر غالب آتی۔

ایک دن اس نے متواتر بارہ گھنٹے آنکھ نہ کھولی اور مجھے از حد تشویش ہوئی۔ رات کے تقریباً نو بجے جب کہ اس کا سر میرے زانو پر تھا۔ اسے ہوش آیا۔ اس نے چھوٹتے ہی کہا۔ ’’تم اس قدر کیوں تکلیف اٹھاتے اور مجھے شرمندہ کیے جاتے ہو؟ میں اس شرمندگی سے مر جاؤں تو اچھا ہے۔ تمہیں ماما پر اعتبار نہ ہو تو اپنی شادی کسی سے کرلو۔ وہ گھر کا انتظام خود کرے گی، اور تمہیں اس قدر درد سری نہیں کرنی پڑے گی۔ یہ نہ سمجھنا کہ مجھے سوکن کا خیال ہوگا۔ تمہارا یہی ایک احسان کہ تم نے میرا سرتاج بننا منظور کیا، ایسا ہے جس کا میں کسی طرح بدلہ نہیں دے سکتی۔ تم نے میرے ساتھ شادی کر کے واقعی اپنے اوپر بڑا ظلم کیا۔

کچھ نہ پوچھیے کہ ان الفاظ نے میرے ساتھ کیا کیا۔ میرے خون میں چکر آیا۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے کلیجہ تھام لیا۔ حالت روز بروز خراب ہوتی گئی۔ قاضی صاحب دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اس لیے اس نے اپنی والدہ کو بلایا اور درد بھرے الفاظ کے ساتھ مہر معاف کر دیا، اور میں روتے روتے بے ہوش ہوگیا۔ اسی دن سے ہچکی لگ گئی۔ اس کے آخری الفاظ یہ تھے ’’اگر تم کو تکلیف ہوئی تو میری روح کو صدمہ ہوگا۔‘‘

Comments

یہ بھی پڑھیں