The news is by your side.

سلطنت عمان تاریخ رقم کرنے کے قریب

خیلجی ریاست سلطنت عمان نے پہلے عمانی سیٹلائیٹ ’’مشن امان‘‘ کو لانچر ون جہاز کے ساتھ ضم اور نصب کرنے کے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کردیا ہے۔

عمان نیوز ایجنسی کے مطابق سلطنت عمان کی ابھرتی ہوئی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی "آئی ٹی سی او” نے اپنے پہلے عمانی سیٹلائٹ’’مشن امان‘‘ کو لانچر ون خلائی جہاز کے ساتھ ضم اور نصب کرنے کے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا ہے جس کو کارن وال، برطانیہ کے نیوکوے ہوائی اڈے سے زمین کے نچلے مدار میں بھیجا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق یہ اس خلیجی ریاست کے پہلے خلائی مشن کا آغاز ہے جس کو مشن امان کا نام دیا گیا ہے۔

عمانی کو دنیا بھر میں تیزی سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کمپنی ’آئی ٹی سی او‘ پولینڈ کی سیٹلائٹ بنانے والی کمپنی ’سیٹریف‘ کے ساتھ بین الاقوامی شراکت اور مصنوعی ذہانت رکھنے والی ’توتارا‘ اور امریکی کمپنی ’ورجن آربٹ‘ کے ذریعے جدید ترین لانچر راکٹ لانچر ون پر سیٹلائٹ لے جائے گی۔

اس پروگرام میں شامل ورجن آربٹ کمپنی کی انضمامی ٹیم کو اس کیلیے ایک پیچیدہ عمل کے مرحلے سے گزرنا پڑنا جس کا آغاز لانچ کرینوں کی تنصیب اور تیاری کے ساتھ ہوا جس کا تعلق لانچ وہیکل کی لفٹ کو محفوظ بنانے اور سیٹلائٹ کے انضمام سے تھا جس کے بعد ابتدائی جانچ کی گئی۔

اس عمل کو ہم تمام آپریٹنگ، لانچنگ، ٹریکنگ اور ڈیٹا وصول کرنے والے نظاموں کے لیے جدید جانچوں کی ایک مکمل سیریز کہہ سکتے ہیں جو اس جدید قسم کے خلائی مشنز میں لاگو بین الاقوامی معیارات کے مطابق مربوط طریقے سے تھی۔

اس حوالے سے ای ٹی سی او کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالعزیز صادق الحاج جعفر نے کہا کہ سیٹلائٹ کا انضمام اس سال عمان کے پہلے سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجنے کے منصوبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، سلطنت عمان کیلیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے جبکہ چاند کی زمین کے نچلے مدار میں آخری لانچ کے مرحلے تک پہنچنے کے لیے کام جاری ہے۔

دوسری جانب سیٹ ریف کے سی ای او زوولینسک نے بھی تصدیق کی کہ تنصیب منصوبہ بندی کے مطابق اور مکمل کامیابی کے ساتھ ہوئی اور گزشتہ ماہ ہونے والے ایک محتاط معائنے تمام خطرات کو پیشگی کم کر دیا گیا کیونکہ ورجن آربٹ کی تنصیب ٹیم ہیڈ کوارٹر میں سائٹ پر موجود تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں