The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقاتی ٹیم قائم کرنے کی سمری منظور

اسلام آباد: پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقاتی ٹیم قائم کرنے کی سمری منظور کر لی گئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے لیے ٹیم قائم کرنے کی سمری منظور ہو گئی، وزیر اعظم آفس نے اس سلسلے میں سیکریٹری ایوی ایشن ڈویژن کو مراسلہ جاری کر دیا۔

مراسلے کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے تحقیقاتی ٹیم کو فوری طور پر کام کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، یہ تحقیقاتی ٹیم وفاقی حکومت کی اجازت کا انتظار کیے بغیر کام شروع کرے گی، جب کہ وزارت ہوا بازی کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی باضابطہ منظوری کابینہ دے گی۔

گزشتہ روز حکومت نے طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دی تھی، 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ایئر کموڈور عثمان غنی کریں گے، ونگ کمانڈر ملک عمران، گروپ کیپٹن توقیر، جوائنٹ ڈائریکٹر اے ٹی سی ٹیم میں شامل ہیں، یہ تحقیقاتی ٹیم فوری طور پر حکومت کو ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی، اور حادثے کی جامع رپورٹ ایک ماہ میں مکمل کر کے دی جائے گی۔

وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ حادثے کی وجوہ سامنے آنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، اس سے لواحقین اور متاثرین کی دل آزاری ہوگی، پی آئی اے کے حادثے نے عید کی خوشیاں مزید پھیکی کر دی ہیں، جلد اس نا خوش گوار واقعے کے حقائق سامنے لائیں گے۔

پی آئی اے کے بدقسمت طیارے کے حادثے کی ابتدائی تحقیقات جاری

دوسری طرف پاک فوج نے ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا ہے، بھاری مشینری کو بھی جائے حادثہ سے ہٹا لیا گیا ہے، طیارے کا ملبہ ہٹائے جانے کا کام جاری ہے، فلاحی اداروں نے بھی ریسکیو عمل ختم کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور سے آنے والا طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں 97 افراد جاں بحق ہوئے، حادثے میں بینک آف پنجاب کے سربراہ سمیت 2 افراد معجزانہ طور پر بچ گئے، 97 میں سے اب تک صرف 19 افراد کی شناخت کی جا چکی ہے۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بدقسمت طیارہ 15 ناٹیکل مائل اپروچ پوائنٹ پر تھا، گرنے سے قبل کنٹرول ٹاور نے کپتان کو کہا آپ کی بلندی زیادہ ہے اس کو کم کریں، ذرایع کا کہنا ہے کہ عام طور پر 5 ہزار پر لینڈنگ اپروچ ہونی چاہیے تاہم طیارہ 10 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں