(23 جنوری 2026): ایک منفرد معاملے میں انوکھا فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں اتوار کا دن اس کے لیے آزادی کا دن قرار دیا ہے۔
یہ منفرد معاملہ اور انوکھی پنچایت لگی بھارت میں جہاں ایک شوہر کی دو بیویوں کی شکایت پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ پنچایت نے یہ فیصلہ دے کر شوہر کو بھی حیران کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں میں ایک شخص نے دو شادیاں کر رکھی تھیں۔ پہلی شادی اس نے گھر والوں کی پسند سے جب کہ دوسری شادی اپنی پسند سے کی تھی۔
یہاں تک تو معاملہ ٹھیک تھا، مگر مسئلہ تب پیدا ہوا، جب دونوں بیویاں شوہر پر صرف اپنا حق سمجھتے ہوئے یہ معاملہ تھانے لے گئیں جہاں تھانیدار اور پورا عملہ بھی یہ معاملہ سن کر حیران وپریشان ہو گیا۔
اس بات پر گھر میں اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔ جھگڑے اس حد تک بڑھ گئے کہ پڑوسیوں کے لیے وہ روز کی تفریح بن گئے۔ آخر کار تنگ آکر دونوں بیویاں اپنے شوہر کے ساتھ عظیم نگر پولیس اسٹیشن گئی اور پولیس کو اپنی شکایتیں پیش کیں۔
شوہر کے معاملے پر دونوں بیویوں کے جھگڑے اتنے بڑھے کہ آئے دن کی شکایت پر پولیس نے تنگ آ کر یہ معاملہ گاؤں کی پنچایت کو بھیج دیا۔
رپورٹ کے مطابق پنچایت میں بے چارہ شوہر، دونوں بیویاں اور اہل خانہ نے شرکت کی اور طویل بحث کے بعد شوہر کی ہفتہ وار روٹین کو تقسیم کر دیا۔
پنچایت نے فیصلہ دیا کہ شوہر پیر سے بدھ تک ایک بیوی اور جمعرات سے جمعہ تک دوسری بیوی کے ساتھ رہے گا۔ اب ہفتے میں ایک دن اتوار کا بچا تھا۔ تو پنچایت نے یہ دن شوہر کے لیے آزادی کا دن قرار دیا اور کہا کہ اس دن وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے رہ سکتا ہے۔
پنچایت نے اس فیصلے کو تحریری طور پر درج کیا، جس پر بے چارے شوہر اور اس کی دونوں بیویوں نے دستخط کر کے اس فیصلے کو قبول کر لیا۔
جڑواں بھائیوں کی 2 جڑواں بہنوں سے شادی! دونوں خاندانوں کے جڑواں انکلز کی شرکت
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


