The news is by your side.

Advertisement

دھرنے کے نام پر قوم کو تقسیم کرنے کی سازش، سنی اتحاد کونسل کا آزادی مارچ سے لاتعلقی کا اعلان

فیصل آباد: سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان قوم کو تقسیم کرنے کی سازش کررہے ہیں، ہزاروں مساجد اور مدارس کا آزادی مارچ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کی وجہ سے ملک میں نیا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے، مولانا فضل الرحمان قوم کو تقسیم کرنے کی سازش کررہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ مدارس کے طلبا کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے، ملک بھر میں قائم ہزاروں مساجد اور مدارس کا آزادی مارچ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ صاحبزادہ حامد رضا کا مزید کہنا تھا کہ سنی اتحادکونسل26اکتوبرکواسلام آباد میں کنونشن کا انعقاد کرے گی۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل مدارس دینیہ اور تنظیمات اہل سنت نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے شرکت نہ کرنے کا دو ٹوک اعلان کیا تھا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ قومی سلامتی کے خلاف ہے، ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: مولانا کو بڑا دھچکا، آزادی مارچ کے حوالے سے پاکستان علما کونسل کا بڑا اعلان

قبل ازیں 20 اکتوبر کو پاکستان علما کونسل کے چیئرمین طاہر اشرفی نے آزادی مارچ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ مساجد اور مدارس کسی بھی انتشار اور فساد کی حمایت نہیں کریں گے اور نہ ہی مارچ کے لیے کسی طالب علم یا استاد کو کوئی چھٹی دی جائے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت  طالب علموں کو زبردستی مارچ میں شریک نہیں کرسکتی، انتشارپھیلانےوالوں کو عوام کے ساتھ مل کر روکیں گے اور 27 اکتوبر کو بھارت کےخلاف ملکی سطح پر یوم سیاہ منائیں گے۔

قبل ازیں جامعہ بنوریہ نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی مخالفت کا اعلان کیا، مفتی نعیم کا کہنا تھا کہ دینی طلبہ کو سیاست میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ دینی طلبہ کو سیاست میں استعمال نہ کیا جائے کیونکہ اس سے دنیا کو اچھا تاثر نہیں جائے گا، مدارس غیر سیاسی ہوتے ہیں لہذا انہیں کوئی بھی شخص سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے۔ جامعہ بنوریہ کے مہتمم کا مزید کہنا تھا کہ تمام مدارس سے درخواست ہے کہ اپنے طلبہ کو مارچ یا دھرنے میں شریک نہ کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں