The news is by your side.

Advertisement

آج چودھویں کے چاند میں 3 خوبیاں

کراچی : دنیا آج ایک سو باون سال بعد انوکھے چاند گرہن کا نظارہ کرے گی، یہ موقع اگلے ڈیڑھ سو سال تک دوبارہ نہیں ملے گا، ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 31 جنوری کو چودھویں کے چاندمیں 3خوبیاں ہوں گی، آج چاند بیک وقت سرخ نیلا اور مکمل گرہن کا شکار نظر آئےگا۔

تفصیلات کے مطابق آج چاند کے تین منفرد اور دلفریب نظارے بلیو بلڈ سپر مون ایک ساتھ دیکھے جاسکیں گے، چاند زمین سے کم ترین فاصلے پر ہو گا، جس کی وجہ سے چاند معمول سے چودہ فیصد بڑا اور روشن نظر آئے گا جبکہ زمین اور چاند کے درمیان کا فاصلہ360199کلومیٹر ہوگا۔

گرہن کی وجہ زمین کا سایہ چاند پر پڑنے سے اس کی رنگت سرخی مائل دکھائی دے گی اور اسی وجہ سے اسے بلڈ یا خونی چاند بھی کہا جاتا ہے۔

سنہ دوہزار اٹھارہ کا پہلا مکمل چاند گرہن سہ پہر ساڑھے تین بجے لگنا شروع ہوگا اور چھ بج کرانتیس منٹ پر چاند پورے گرہن کی حالت میں ہوگا جبکہ سات بج کر سات منٹ پر گرہن اترنا شروع ہوگا۔

ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 31 جنوری کوچودھویں کے چاندمیں 3خوبیاں ہوں گی،  چاند بیک وقت سرخ نیلا اور مکمل گرہن کا شکار نظر آئے گا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق چاند گرہن دوپہر 3 بجکر51 منٹ پرشروع ہوگا، جیسے ہی پاکستان میں چاند نظر آئے گا تو گرہن لگا ہوا ہوگا، کراچی میں سپر بلڈ مون6بجکر12منٹ پر نظر آئے گا جبکہ اسلام آباد میں شام5بجکر32 منٹ پر سپر بلڈ مون نظر آئے گا، جو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہے گا۔


مزید پڑھیں : جنوری 31‘ چاند کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے؟


سپر بلیو بلڈمون کو ایشیاء ، روس کے مشرقی علاقوں ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے رہائشی با آسانی دیکھ سکیں گے جبکہ شمالی امریکہ ، الاسکا اور ہوائی میں صرف مکمل چاند گرہن سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح کے وقت دیکھا جا سکے گا۔

ماہرین کے مطابق ایسا چاند گرہن صدیوں میں ایک بار ہوتا ہے، چاند کی بیک وقت تین حالتیں ایک سو باون سال پہلے ٹھیک اسی تاریخ ا ور اسی وقت 1866 میں ہوئی تھیں جبکہ آج کے بعد یہ نظارہ اکیس سو اڑسٹھ میں دیکھا جائے گا۔

ایک ماہ میں دوسری بار مکمل چاند کو بلیو مون کہا جاتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں