سپر مون - آخرچاند اتنا روشن اور بڑا کیوں دکھائی دیتا ہے -
The news is by your side.

Advertisement

سپر مون – آخرچاند اتنا روشن اور بڑا کیوں دکھائی دیتا ہے

فلکیاتی سائنسدان کئی صدیوں سے کائنات کے سربستہ رازوں کی گھتیاں سلجھانے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ نظام ِ شمسی کے دیگر سیاروں پر زندگی کے آثار موجود ہیں یا نہیں اور اس مقصد کے لیے ان کی تحقیقات کا سب سے اہم مر کز زمین کا اکلوتا چاند رہا ہے۔

رواں برس 2017اس حوالے سے کافی اہمیت کا حامل رہا کہ نا صرف سائنسدان بلکہ دنیا بھر سے فلکیات کے شیدائیوں کو کئی انوکھے فلکیاتی عوامل کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اور ابھی دسمبر کے مہینے میں ایسے کئی مواقع متوقع ہیں۔اگرچہ اِن یادگار فلکیاتی عوامل کے سلسلے کا آغاز پچھلے برس نو جنوری 2016 سے ہوا جب آسمان کی بے کراں وسعتوں میں ہمارے نظام ِ شمسی کے دو اہم سیارے زہرہ اور زحل ایک دوسرے کے اتنے قریب نظر آئے کہ اسے دونوں سیاروں کا ” بوسہ ” قرار دیا گیا ، اگرچہ یہ صرف ایک نظری دھوکہ تھا اور زہرہ اور زحل ہنوز ایک دوسرے سےبہت زیادہ فاصلے پر تھے۔ اسی برس انوکھا اور عشروں میں کبھی دکھائی دینے والا ایک یادگار واقع اکتوبر ، نومبر اور دسمبر میں رونما ہونے والے تین “سپر مونز ” کاایک سلسلہ تھا۔

پاکستان میں 70 سال بعد سپر مون کا نظارہ

علم ِ فلکیات کے مطابق ایک سپر مون اس وقت رونما ہوتا ہے جب چاند ، سورج کی مخالف جانب زمین کے ساتھ ایک ہی لائن میں آجاتا ہے، جسے ماہرین ِ فلکیات نے ” پیریگی سیزائگ” یا سپر مون کا نام دیا ہے۔واضح رہے کہ پیریگی اس مقام کو کہتے ہیں جب چاند اپنے مدار میں گردش کرتے ہوئے زمین سے 221،225 کے کم ترین فاصلے پر آجاتا ہے اور اس باعث معمول کے سائز سے نوے گنا زیادہ بڑا اور روشن نظر آتا ہے جس کی بنیادی وجہ چاند کا قدرے بیضوی مدار ہے ۔چونکہ یہ ایک مشکل نام ہے اس لیے میڈیا اور عوامی حلقوں میں لفظ سپر مو ن نےزیادہ شہرت پائی ،جس کا پہلی مرتبہ استعمال ماہر فلکیات ‘رچرڈ نال’ نے کیا تھا ۔ معمول کا پورا چاند ،زمین سے238،900 میل کے فاصلے پر ہوتا ہے جبکہ چاند کا زمین سے دور ترین مقام اس سے پانچ فیصد زیادہ ہے جو ‘اپوگی ‘کہلاتا ہے۔

سپر مون کو واضح طور پر دیکھنے کے لیے جنوب کی جانب روشنیوں اور آبادی سے دور علاقوں کا رخ کرنا چاہیئے اور یہ بات ذہن میں رکھنے چاہیئےکہ غروب ِ آفتاب کے بعد چاند افق پر جتنا بلند ہوگا ‘ اتنا ہی روشن اور بڑا دکھائی دے گا۔چونکہ چاند کا زمین کے ساتھ فاصلہ دو راتوں میں زیادہ متاثر نہیں ہوتا اس لیے اگر کوئی شخص مطلع ابر آلود ہونے کے باعث ایک رات اسے دیکھنے سے قاصر رہا تو وہ اگلی رات بھی اسے دیکھ سکتا ہے۔پچھلے برس رونما ہونے والی سپر مونز کی سیریز کا آغاز اکتوبر میں ہوا ۔

اس مہینے کے چاند کو فلکیاتی اصطلاح میں ہارویسٹ مون کہا جاتا ہے کیونکہ یہ غروب آفتاب کے بعد بہت جلد افق پر نمودار ہوجاتے ہیں جس کے باعث کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں کو زیادہ روشنی میسر ہونے سے وہ رات میں بھی باآسانی فصلوں کی کٹائی کا کام کر لیتے ہیں ۔ اکتوبر سے پہلے ماہ ِ ستمبر کے چاند کوہنٹر مون کہا جاتا ہے، گرچہ چاند کو دیئے جانے والے یہ نام کچھ پیچیدہ ہیں اور جلد تبدیل کر دیئے جاتے ہیں ۔ اس سلسلے کا دوسرا سپر مون چودہ نومبر 2016 کی رات نظر آیا جو کئی حوالے سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔

اس رات چاند اپنے معمول کے سائز سے چودہ فیصد بڑا اور تیس فیصد زیادہ روشن تھا جو اس سے پہلے 1948 میں دیکھا گیا تھا اور اب اتنے ہی عرصے بعد 2034 میں دوبارہ دکھائی دیگا۔اس سلسلے کا اختتام چودہ دسمبر کی رات نظر آنے والے مکمل اور نسبتا روشن سپر مون پر ہوا جس ایک خصوصیت یہ تھی اس رات آسمانی پتھروں کی بارش ‘ میٹی یور ‘ شاور کو بہت واضح مشاہدہ کیا جا سکا کیونکہ افق پر چاند کی روشنی زیادہ ہونے کے باعث شہابیے کے گرنے کا منظر پانچ سے دس گنا زیادہ صاف نظر آرہاتھا ۔

اور اب ایک برس کے طویل انتظار کے بعد ہمارا فلکیاتی ہمسایہ تین دسمبر کی رات ہمیں اس خوبصورت منظر کا ایک دفعہ پھر تحفہ دینے جا رہا ہے ۔ماہرین ِ فلکیات کے مطابق یہ سپر مون مقامی وقت پر دس بج کر پینتالیس منٹ پر بہت واضح دیکھا جا سکے گا جب چاند اپنے معمول کے سائز سے سولہ فیصد روشن اور سات فیصد بڑا نظر آئے گا ۔اگرچہ یہ رواں برس کا چوتھا سپر مون ہے مگر مدہم ہونے کے باعث عام افراد بقیہ تین دیکھنے سے قاصر رہے ۔ دنیا بھر میں فلکیات کے شائقین اس انوکھے منظر سے لطف اندوز ہونے کے لیئے پوری طرح تیار ہیں ۔ اگر کسی باعث آپ اس سپر مون کو دیکھنے سے محروم رہیں تو فکر کی چنداں کوئی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ اگلے برس 2018 کے اوائل میں دو اور پھر اکتیس جنوری کے چاند بھی سپر مون ہوں گے ۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں