پاناما کیس فیصلہ : شریف خاندان کی نظرثانی درخواستیں سماعت کے لیےمنظور -
The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس فیصلہ : شریف خاندان کی نظرثانی درخواستیں سماعت کے لیےمنظور

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے شریف خاندان اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی پاناماکیس فیصلے میں نظرثانی کی اپیلیں 12 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کردیں۔

تفصیلات کے شریف خاندان اور اسحاق ڈار کی پاناماکیس فیصلے میں نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت جسٹس اعجازافضل کی سربراہی میں عدالت کا تین رکنی بینچ کرے گا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف نے نظرثانی درخواستوں میں سپریم کورٹ سے 28 جولائی کے فیصلے اور اس پر مزید عمل درآمد کو روکنے کی استدعا کی تھی۔


نوازشریف نے نااہلی کے خلاف نظرثانی کی درخواستیں دائر کردیں


نواشریف کی جانب سے دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جس بنیاد پر نوازشریف کو نااہل کیا گیا، درخواست میں شامل نہیں تھا، اثاثے ظاہر نہ کرنے سے متعلق متعلقہ فورم موجود ہے۔


نوازشریف کے بچوں نے بھی پاناماکیس کا فیصلہ چیلنج کردیا


نوازشریف کے بعد ان کے بچوں حسن،حسین اور مریم نواز نے بھی پاناما فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کی تھی، سابق وزیر اعظم کے بچوں نے بھی فیصلے تک حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی تھی۔


نیب نے شریف خاندان اوراسحاق ڈار کے خلاف ریفرنسز دائر کردیے


یاد رہے کہ گزشتہ روزنیب نے نااہل سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بچوں اور اسحاق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنسز دائر کردیے تھے۔


پاناما کیس: وزیراعظم نوازشریف نا اہل قرار


واضح رہے کہ 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا تھا اور وزیرخزانہ سمیت شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس دائر کا حکم دیا تھا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں