سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت 5 ستمبر تک ملتوی -
The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت 5 ستمبر تک ملتوی

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی بڑا آدمی بیمارہو تو پورے ملک کومصیبت پڑجاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کی۔

ایف آئی اے نے کیس سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی جس میں بتایا گیا ہے کہ انور مجید سمیت 2 ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فریال تالپورکوٹرائل کورٹ سے جبکہ آصف زرداری کواسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت مل چکی ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 29 مشتبہ اکاؤنٹس سے 35 ارب کی منتقلی کی تحقیقات کررہے ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی رپورٹ کے مطابق حسین لوائی کی گرفتاری کے بعد ضمانت کی درخواست مسترد ہوئی، طہٰ رضا کی بھی ضمانت کی درخواست مسترد ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کھوسکی شوگر مل پررینجرز کے ساتھ مل کر چھاپہ مارا، مل میں اہم ریکارڈ کوچھاپے سے پہلے جلا دیا گیا۔

ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق جلائےگئے ریکارڈ کے کچھ نمونے حاصل کر لیے گئے جبکہ مل سے ملا اسلحہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کھوسکی شوگرمل بدین سے اہم دستاویز حاصل کی گئی ہیں، مل سے حاصل دستاویز تفتیش میں اہمیت کی حامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی ریکارڈ سے متعلق 27 ہارڈ ڈسک تحویل میں لی گئی ہیں جو فرانزک تجزے کے لیے بھیج دی گئی ہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انورمجید اورمحمد عارف خان کے اثاثے منجمد کرنے کی کارروائی شروع کردی۔

عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق اومنی گروپ کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کی کارروائی 31 جولائی کوشروع کی گئی۔

ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق اومنی گروپ کے ٹیکس ریٹرن کی تفصیلات پرایف بی آر کو خط لکھ دیا۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انورمجید اورعبدالغنی مجید کو 18 اگست کو گرفتار کیا گیا، دونوں کی کراؤن انٹرنیشنل ٹریڈنگ نام کی دبئی میں کمپنی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کا لائسنس نازلی مجید، نورنمرمجید اور منہال مجید کے نام پرہے جبکہ کراؤن کمپنی کے 2 فارن بینک اکاؤنٹس کا علم عبدالغنی مجید کے دفتر سے ہوا۔

ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق فارن اکاؤنٹس سے برطانیہ میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم منتقل کی گئی، یواے ای حکومت سے کام کراؤن کمپنی کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق دوران تفتیش عبدالغنی مجید نے صرف محمدعمیر کوبطورملازم اومنی گروپ پہچانا، عبدالغنی مجید نے دوسرے اکاؤنٹ ہولڈرزکو پہچاننے سے انکارکردیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عبدالغنی مجید نے یونس قدوائی کے ساتھ کاروباری روابط کا اعتراف کیا، یونس قدوائی ربیکن بلڈرزاور ڈیویلپرز کا ڈائریکٹر ہے۔

ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق عبدالغنی مجید نے حاجی ہارون مالک ایچ ایچ ایکس چینج سے روابط کا اعتراف کیا، اے جی مجید نے ایچ ایچ کمپنی سے 8 سے 10کروڑکے امریکن ڈالر خریدے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انور مجید، عبدالغنی مجید کواپنے دفاع میں ثبوت پیش کرنے کا موقع دیا گیا، وہ بتائیں 312.2 کروڑڈیپازٹ اور401.4 کروڑ29 اکاؤنٹس سے کیسے نکالے۔

ایف آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملزمان نے جعلی بینک اکاؤنٹس میں رقوم منتقلی سے متعلق اعتراف کیے۔

عدالت عظمی میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق دونوں ملزمان اپنے دفاع میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے جبکہ دوران تفتیش اومنی گروپ کی دو مزید کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔

ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق دونوں کمپنیاں عمیرایسوسی ایٹس اور پلاٹینم ایل پی جی کے نام سے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نورین سلطان، کرن امان اوراقبال نوری تفتیش میں شامل ہوئے، نورین سلطان، کرن امان، عدیل شاہ، محمداشرف، قاسم علی، شہزاد جتوئی ضمانت پرہیں۔

ایف آئی اے کے مطابق شیرمحمدمغیری اور محمد اقبال نوری بھی ضمانت قبل از گرفتاری پر ہیں جبکہ بصیرعبداللہ ،اسلم مسعود، عارف خان، عدنان جاوید، عمیر، اقبال آرائیں مفرورہیں۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق اعظم وزیرخان ، زین ملک ، نمرمجید اورمصطفی ذوالقرنین مجید مفرور ہیں۔

ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے 2015 میں انکوائری شروع کی، 4 بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات شروع کی گئیں ، رقوم منتقلی میچ نہیں کررہی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اے ون انٹرنیشنل، اقبال میٹل، لکی انٹرنیشنل، عمیر ایسوسی ایٹس کے اکاؤنٹ کی تفتیش کی، 4 اکاؤنٹس ہولڈرز کے خلاف جنوری 2018 میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے وکلا کی عبدالغنی مجید سے ملنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وکیل سے ملنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ جب کوئی بڑا آدمی بیمارہو تو پورے ملک کومصیبت پڑجاتی ہے۔

بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت 5 ستمبرتک ملتوی کردی۔

آصف علی زرداری اور فریال تالپور ایف آئی اے میں پیش

یاد رہے کہ گزشتہ روز منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور نے ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں