The news is by your side.

Advertisement

بحریہ ٹاؤن کراچی کو پروجیکٹ مکمل کرنے کی اجازت مل گئی

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں بحریہ ٹاؤن کیس کی سماعت کے دوران مفادِ عامہ کے تحت بحریہ ٹاؤن کراچی کو پروجیکٹ مکمل کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن نظرِ ثانی کیس کی سماعت جاری ہے، بحریہ ٹاؤن کراچی کے منصوبے کو مفادِ عامہ کا منصوبہ سمجھتے ہوئے اجازت دی گئی کہ کام جاری رکھا جائے۔

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو بحریہ ٹاؤن نظر ثانی کیس کے فیصلے تک منصوبے کے خلاف کارروائی کرنے سے روک دیا، عدالت نے کہا کہ منصوبے کو جاری رہنے دیا جائے۔

عدالت نے بحریہ ٹاؤن نظر ثانی کیس کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ بنانے کا بھی حکم جاری کردیا ہے، سپریم کورٹ نے کہا بحریہ ٹاؤن کو کیس کے فیصلے تک کام جاری رکھنے کی اجازت ہے۔

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن سے زرِ ضمانت بھی طلب کرلیا، عدالتی کارروائی کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ بحریہ ٹاؤن ضمانت کے طور پر تین ہفتوں میں پانچ ارب روپے عدالت میں جمع کرائے گا۔

دریں اثنا بحریہ ٹاؤن نظرِ ثانی کیس میں چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، ملک ریاض نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے قانون کے خلاف کوئی کام نہیں کیا ہے۔

باغ ابن قاسم بحریہ ٹاؤن کے حوالے کرنے کا نوٹیفکیشن معطل


بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے اپنی محنت سے نام بنایا ہے، تعمیراتی منصوبوں کے ذریعے عوام کو بہترین پروجیکٹ دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملک ریاض سے کہا تھا کہ وہ ’تیسری دنیا کے ملک کو پہلی دنیا کی ریاست بنانے‘ کے سلسلے میں اپنی آخرت کی بھی فکر کریں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں