اسلام آباد : سپریم کورٹ نے 4 سالہ سوتیلے بچے کے قتل کی ملزمہ کی ضمانت منظور کرلی، جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیئے کہ بچے کو ماں نے مارا یا نہیں، یہ تحقیقات سے معلوم ہوگا۔
سپریم کورٹ میں 4 سالہ سوتیلے بچے کے قتل کی ملزمہ کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ موت قدرتی نہیں تھی، جسٹس ملک شہزاد نے بھی ریمارکس دیئے کہ بچے کو ماں نے مارا یا نہیں، یہ تحقیقات سے معلوم ہوگا، آدھا کیس مدعی اور آدھا پولیس خراب کرتی ہے۔
وکیل ملزمہ نے کہا کہ ملزمہ کے خلاف نہ کوئی گواہ ہے اور نہ کوئی مضبوط ثبوت موجود ہیں اور خاتون کو جیل میں بھی ایک بچے کی ولادت ہوئی ہے۔
وکیل مدعی کا کہنا تھا کہ ملزمہ مدعی مقدمہ کی دوسری اہلیہ ہے،ملزمہ نے گھریلو جھگڑے پر بچے کو زہریلی چیز کھلا کر گلا دبایا، بچہ اسکول سے صحیح سلامت واپس آیا تھا لیکن گھر پہنچنے پر لاش ملی۔
پولیس نے بتایا کہ ملزمہ کے خلاف 26 مئی کو تھانہ ننکانہ صاحب میں مقدمہ درج کیا گیا تھا تاہم وکیل ملزمہ نے کہا کہ بچہ پہلے بھی دمہ کا مریض تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کی ضمانت منظور کرلی۔


