The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے نایاب پرندے تلور کے شکار پر پابندی عائد کر دی

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے نایاب پرندے تلور کے شکار پر پابندی عائد کر دی،  وزارت خارجہ کی جانب سے جاری تمام لائسنس منسوخ کردیے اور آئندہ لائسنس جاری نہ کرنے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نایاب پرندے تلور کے شکار سے متعلق کیس کی سماعت کی، کیس میں درخواست گزارراجہ فاروق نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی حکومت نے نایاب جانوروں کے تحفظ کے معاہدے پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ ملک میں ایک دن میں اکیس سو پرندوں کا شکار کیا گیا ہے۔

جسٹس دوست محمد نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت وزارت خارجہ لائسنس جاری کرتی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ لائسنس جاری کرتے ہوئے بیرونی تعلقات کو بھی دیکھنا پڑتا ہے، پرندوں کا شکار ایک کھیل ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کیا بیرونی تعلقات کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک میں قتل و غارت کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ پرندوں کا قتل ہے، وہ قانون بتا دیں جس کے تحت اس پرندے کے شکار کی اجازت دی گئی ہے۔

 جسٹس دوست محمد نے کہا کہ اگر کسی نے شکار کی اجازت مانگی تو اس معاملے کو صوبوں کو بھیجنا چاہیے تھا۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں کو منتقل ہو گئے ہیں۔

قاضی فائز عیسی نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والوں کو ہمارے ملک کے قانون کا احترام کرنا چاہیے، عدا لت نے سماعت کے بعد تلور کے شکار پر پابندی کا حکم جاری کر دیا اور اس حوالے سے جاری تمام لائسنس کو منسوخ کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں