The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ فیصلہ: سول ایوی ایشن نے درجنوں ملازمین کو کام سے روک دیا

کراچی : سپریم کورٹ کی جانب سے برطرف ملازمین کی بحالی کے ایکٹ دوہزار دس کو کالعدم قرار دینے کے حکم پر عملدر آمد شروع ہوگیا، سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 26 ملازمین کو کام سے روک دیا۔

تفصیلات کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ نے متعلقہ ملازمین اور افسران کے ڈیپارٹمنٹل ہیڈز کو مراسلہ ارسال کر دیا، مراسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے میں مذکورہ ایکٹ کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے کر کالعدم قرار دیا گیا۔

سی اے اے نے سپریم کورٹ کی جانب سے برطرف ملازمین کی بحالی کے ایکٹ دوہزار دس کو کالعدم قرار دینے کے حکم پر عملدر آمد کرتے ہوئے چھبیس ملازمین کی فہرست جاری کردی، مذکورہ ایکٹ کے مطابق برطرفی کے بعد ملازمت پر بحال ان ملازمین کو فوری طور پر کام سے روک دیا جائے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ متعلق شعبوں کے سربراہ ان ملازمین کو ڈیوٹی کےلیے آنے روک دیں اور فہرست میں شامل ہر ملازم کو برطرفی کےلیے انفرادی خطوط جاری کریں۔

بحالی کے وقت ملنے والی یکمشت رقم بھی واپس لی جائے اور اگر 26 ملازمین میں سے کسی نے ایڈوانس تنخواہ یا لون لے رکھا ہے تو وہ رقم بھی واپس لی جائے اور وصول کی جانے والی رقم کی تفصیلات پی سی اے اے اکاؤنٹ کے لئے مرتب کی جائیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 17 اگست کو پیپلز پارٹی کے دور میں جاری ہونے سیلکڈ ایمپلائز دی انسٹیٹ ایکٹ دو ہزار دس کو کالعدم قرار دیا تھا، اس ایکٹ کے تحت نوے کی دہائی میں نواز شریف حکومت میں بے دخل کیے گیے ملازمین کو بحال کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں