اسلام آباد (09 مارچ 2026): سپریم کورٹ آف پاکستان نے مبینہ طور پر اپنے کمسن بیٹے کو زہر دے کر قتل کرنے کے الزام میں سزا پانے والے والد کو بری کرتے ہوئے ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کالعدم قرار دے دی اور ملزم کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایک باپ کا اپنے ہی کمسن بیٹے کو زہر دینا انسانی فطرت اور رویے کے خلاف ہے اور استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ باپ کے پاس اپنے بیٹے کو قتل کرنے کا کیا محرک تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ گھر میں کپاس کی فصل کے لیے کیڑے مار ادویات موجود تھیں، اس لیے یہ امکان بھی موجود ہے کہ بچہ خود ہی وہ زہریلی چیز پی گیا ہو۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق 4 سالہ بچہ زہریلی اور پینے والی چیز میں تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چشم دید گواہان کے بیانات تضادات سے بھرپور اور غیر فطری ہیں۔ گواہوں نے موقع پر موجود ہونے کی کوئی ٹھوس وجہ بیان نہیں کی اور وہ محض اتفاقیہ گواہ معلوم ہوتے ہیں۔ عدالت کے مطابق بچے کے لباس کے رنگ کے حوالے سے ڈاکٹر اور گواہوں کے بیانات میں بھی سنگین تضاد پایا گیا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ گواہوں کا کمرے کی تلاشی نہ لینا یا کسی برتن کو چیک نہ کرنا بھی ان کی موجودگی کو مشکوک بناتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی نشان دہی کی کہ ایف آئی آر کے اندراج میں غیر واضح تاخیر سے کیس کی صداقت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فوجداری قانون کے مطابق شک کا ایک پہلو بھی ملزم کو بریت کا حق دار بنا دیتا ہے۔
کیس کے مطابق اگست 2019 میں سکھر میں چار سالہ مدثر عرف میٹھو کی مبینہ طور پر زہر خورانی کے باعث موت واقع ہوئی تھی۔ بچے کے والد سلطان عرف ببو جتوئی پر الزام تھا کہ اس نے گواہوں کی موجودگی میں اپنے بیٹے کو زہریلی چیز پلائی۔
بچے کے ماموں نے مدعی بن کر والد کے خلاف تھانہ سنگی میں مقدمہ درج کرایا تھا۔ بعد ازاں ٹرائل کورٹ نے سلطان جتوئی کو سزائے موت سنائی جس کی توثیق ہائیکورٹ نے بھی کر دی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ملزم کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


